پاکستان کی سینئر اداکارہ ثمینہ احمد نے پاکستانی چینلز پر نشر کئے جانیوالے ساس بہو کے موضوعات پر بننے والے ڈراموں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے لوگ ہمیں کہتے ہیں اور تنقید کرتے ہیں کہ یہ کیا ڈرامے بنائے جاتے ہیں، ساس بہو کے موضوعات پر کیوں ڈرامے بنتے ہیں وغیرہ وغیرہ، یہ زیادہ تر لوگ کون ہوتے ہیں؟ یہ مرد ہوتے ہیں جو تنقید کرتے نظر آتے ہیں، یہ لوگ ڈرامے دیکھتے بھی نہیں ہیں لیکن پھر بھی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ خواتین کے مسائل پر ڈرامے کیوں بنائے جارہے ہوتے ہیں۔
سینئر اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں، میرے نزدیک ان ڈراموں نے خواتین کے حقوق پورے کروانے میں مدد دی اور عورتوں کو بااختیار بنایا، اب بہت سی خواتین اداکاری کرنے آرہی ہیں، اب ماحول ویسا نہیں رہا، بہت بار ایسا ہوا کہ میں سیٹ پر اکیلی خاتون اور باقی تمام مرد تھے تو یہ کافی تبدیلی آئی ہے۔
ثمینہ احمد نے کہا کہ جو ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے وہ سب ہمارے گھروں میں ہورہا ہوتا ہے، ڈرامے ہماری زندگی کی کہانی ہوتے ہیں۔




