منگل, فروری 24, 2026
انٹرنیشنلشِنہوا کے تھنک ٹینک نے عالمی نظم و نسق میں چین کے...

شِنہوا کے تھنک ٹینک نے عالمی نظم و نسق میں چین کے حل پر رپورٹ جاری کردی

جنیوا (شِنہوا) شِنہوا نیوز ایجنسی سے وابستہ تھنک ٹینک شِنہوا انسٹی ٹیوٹ نے منگل کے روز جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں "بین الاقوامی انصاف کا فروغ اور عالمی افراتفری کا مشترکہ طور پر مقابلہ عالمی نظم و نسق میں چین کے حل پر توجہ” کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔

رپورٹ میں ایک اہم عالمی سوال کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کس نوعیت کا عالمی نظم و نسق تشکیل دیا جانا چاہیے اور اسے کس طرح اصلاح اور بہتری کے ذریعے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو (جی جی آئی) کی جامع اور منظم وضاحت کی گئی ہے اور زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی نظم و نسق کے حوالے سے چین کے وژن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا ایک نئے دور کی بے چینی اور تبدیلی میں داخل ہو چکی ہے۔ انفرادیت، تحفظ پسندی اور بالادستی کا رجحان بڑھ رہا ہے جبکہ امن، ترقی، سلامتی اور نظم و نسق سے متعلق خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی نظم و نسق  کی حاکمیت، نمائندگی اور اثر انگیزی سے متعلق مسائل مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ ایسے حالات میں اس نظام کی اصلاح اور بہتری بین الاقوامی برادری کی مشترکہ اور بنیادی تشویش بن چکی ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن، گلوبل ساؤتھ کے فطری رکن اور دنیا کے سب سے بڑے ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے چین عالمی امن کا معمار، عالمی ترقی میں حصہ دار، بین الاقوامی نظام کا محافظ اور عوامی اشیاء کا فراہم کنندہ بننے کے عزم پر قائم ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جی جی آئی، جسے شی جن پھنگ نے ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کے قیام کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر پیش کیا، پانچ بنیادی تصورات پر مبنی ہے جن میں خودمختار مساوات، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی، کثیرالجہتی، عوام پر مرکوز نقطہ نظر اور عمل پر مبنی حکمت عملی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی نظم و نسق کی تعمیر کے لئے چین کا حل پیش کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار اور قیادت کو ازسرنو متحرک کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی جی آئی کے یہ پانچوں بنیادی تصورات اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے مکمل ہم آہنگ ہیں، دنیا کی فوری ضروریات کا احاطہ کرتے ہیں اور انہیں 100 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے مثبت ردعمل اور حمایت حاصل ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین اقوام متحدہ کی مرکزیت میں قائم بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی ترتیب کی مضبوطی سے حمایت جاری رکھے گا، تاریخ کی پیش رفت کے درست رخ پر ڈٹا رہے گا اور دنیا بھر کی ترقی پسند قوتوں کے ساتھ شانہ بشانہ آگے بڑھے گا۔

شِنہوا انسٹی ٹیوٹ، جس کی بنیادی توجہ پالیسی تحقیق پر مرکوز ہے، نے حالیہ برسوں میں اہم ملکی اور عالمی امور پر پیشگی، سٹریٹجک اور تیاری پر مبنی تحقیق کی ہے اور متعدد بااثر تحقیقی نتائج پیش کئے ہیں۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!