جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے اسلام کی بقاء آسائشوں میں نہیں، آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ہمارا کام اور مقصد بڑوں کے نصب و العین کو ہمیشہ زندہ رکھنا ہے، جو بھی دنیا میں آیا، وہ جانے کیلئے آیا، کبھی ہمیشہ رہنے کیلئے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سب نے ایک دن دنیا سے پردہ کرنا ہے، انسان ہمیشہ اپنے آپکو نقصان دے سکتا ہے جو بھی کام شروع کریں، اسکی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے، اسلام اعتدال کا مذہب ہے ورنہ دنیا میں افراط و تفریط پیدا ہو جائیگا۔
انکا کہنا تھا کہ حضور ۖ معلم بھی ہیں اور مربی بھی، تعلیم اور تربیت نبوت کا حصہ ہیں، ہمارے مدارس میں ادب کی تعلیم دی جاتی ہے جو دنیا کی کسی دانشگاہ میں موجود نہیں، آج نوجوان کو اپنے بزرگوں سے توڑا جارہا ہے، انہیں اسلاف سے رشتہ توڑنے کا درس دیا جاتا ہے، جب حکمران کی قوت باطلہ حرکت میں آتی ہے تو نئی شکل پیدا ہوتی ہے اور اسکے مقابلے میں جو آواز کھڑی ہوگی وہی حق کی آواز ہوگی۔




