سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت سیل کئے جانے کے تنازع پر مختلف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
بدھ کو سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی ۔ وکیل انور منصور خان ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ ایف آئی اے کو اس معاملے میں اختیار ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب دائرہ اختیار ہی نہیں تو انکوائری بھی کس طرح کی جاسکتی ہے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ ایف آئی اے کا آپشن تسلیم نہیں کرتے تو مقدمہ برقرار رہے گا۔
ٹریڈرز کے وکیل نے استدعا کی کہ دائرہ اختیار کا فیصلہ ہونے تک کاٹن ایکسچینج کو ڈی سیل کیا جائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے قانون نافذ کرنیوالا ادارہ نہیں بلکہ تحقیقاتی ادارہ ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ صوبائی قانون کی موجودگی میں ایف آئی اے کا دائرہ اختیار ہے؟ آپ کا کام کسی جرم ہونے کی صورت میں ہے، انتظامی یا ملکیتی تنازع آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔
متروکہ املاک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت متروکہ وقف املاک نے سیل کی ہے، ایف آئی اے نے صرف معاونت فراہم کی ہے۔
کے ایم سی کے وکیل بیرسٹر حیدر وحید نے مو قف اپنایا کہ اگر کاٹن ایکسچینج کی عمارت متروکہ املاک ہے تب بھی یہ صوبائی معاملہ ہے اور سندھ میں متروکہ املاک کا صوبائی قانون موجود ہے۔
جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے استفسار کیا کہ 1963ء سے آج تک کیا شواہد جمع کئے گئے ہیں؟۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ 1936ء میں جگہ خریدی گئی اور 2025ء میں نوٹس جاری کرکے عمارت سیل کردی گئی جبکہ ٹریڈرز کو سماعت کا موقع تک نہیں دیا گیا۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ جب سندھ کا قانون موجود ہے تو وفاقی ادارے نے کیسے نوٹس جاری کیا؟۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔




