اتوار, مارچ 1, 2026
انٹرنیشنلعالمی رہنماؤں کا ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی حملوں پر اظہار تشویش، سفارت...

عالمی رہنماؤں کا ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی حملوں پر اظہار تشویش، سفارت کاری پر زور

بیجنگ (شِنہوا) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف "بڑی جنگی کارروائیوں” کے آغاز اور جواب میں خطے بھر میں امریکی و اسرائیلی اہداف پر ایران کے جوابی حملوں کے بعد متعدد عالمی رہنماؤں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے مختلف حصوں میں جانی نقصان اور فضائی حدود کی بندش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کشیدگی میں اس شدید اضافے نے فوری بین الاقوامی ردعمل کو جنم دیا ہے جس سے وسیع تر علاقائی تنازع کا خوف پیدا ہو گیا ہے اور فوری طور پر سفارت کاری کی طرف واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔

روس کی وزارت خارجہ نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کو اقوام متحدہ کے ایک خودمختار رکن ملک کے خلاف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ایک "پہلے سے سوچی سمجھی اور بلا اشتعال مسلح جارحیت” قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ روس نے علاقائی کشیدگی کو حل کرنے کے لئے سیاسی اور سفارتی کوششوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں ایران میں ہونے والی پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور علاقائی سلامتی و استحکام کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، شہریوں کا تحفظ کریں اور بین الاقوامی قانون کا مکمل احترام کریں۔

فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر واضح کیا کہ انہوں نے ایران کے خلاف حملوں میں حصہ نہیں لیا اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

متعدد یورپی حکومتوں نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے اس آپریشن کے لئے اسرائیل کے جواز پر سوالات اٹھائے۔

ناروے نے اسرائیل کے نام نہاد "پیشگی حملے”  کی قانونی حیثیت پر شک ظاہر کیا اور زور دیا کہ اس کے لئے "کسی فوری اور یقینی خطرے” کا ہونا لازمی ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ سپین امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدام کشیدگی میں اضافے کا باعث ہے اور ایک غیر یقینی اور مخاصمانہ بین الاقوامی نظم و ضبط تشکیل دے رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ بھر کی حکومتوں نے اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ یہ محاذ آرائی ایک وسیع تر علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

اومان جس نے حالیہ امریکہ-ایران مذاکرات میں ثالثی کی تھی، نے مذاکرات کو نقصان پہنچنے پر مایوسی کا اظہار کیا اور فوجی کارروائیوں کو فوری روکنے پر زور دیا۔

 مصر نے اپنی وزارت خارجہ کے ذریعے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک وسیع علاقائی تنازع میں بدل سکتی ہے جس کے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی و استحکام پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

عرب لیگ نے تمام بین الاقوامی فریقین سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد کشیدگی کم کرنے کے لئے کام کریں تاکہ خطے کو عدم استحکام اور تشدد کی لعنت سے بچایا جا سکے اور مکالمے کی طرف رجوع کیا جائے۔

برازیل کی حکومت نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں، دشمنی کو بڑھنے سے روکنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تحمل برتیں، شہریوں کی حفاظت کریں اور شہری انفراسٹرکچر کو محفوظ بنائیں۔

پاکستان نے مذاکرات کی ناکامی اور مشرق وسطیٰ میں دشمنی کے آغاز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے "بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری” کی ضرورت پر زور دیا اور تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ سفارت کاری دوبارہ شروع کریں اور بحران کا پرامن اور مذاکراتی حل تلاش کریں۔

افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین محمود علی یوسف نے مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی پر "گہری تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے تحمل، فوری تناؤ میں کمی اور مسلسل مذاکرات کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ مزید کشیدگی عالمی عدم استحکام کو بگاڑ سکتی ہے۔

سینیگال اور گیمبیا نے بھی فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سفارت کاری کے ذریعے بحران حل کرنے پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کا استعمال اور ایران کی جوابی کارروائی بین الاقوامی امن و سلامتی کو کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام فریقین کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!