ایک پاکستانی ماہر کے مطابق ماحول دوست ترقی کے لئے چین کے اقدامات سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں جن سے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھائیں گے۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): شکیل رامے، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ
"چین اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبےکے تحت ماحول دوست ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔ ماحول دوست پیشرفت کے ذریعے چین نئی ٹیکنالوجی لائے گا۔ چین پیداوار کے جدید طریقے اور قابلِ تجدید توانائی سمیت دیگر منصوبے متعارف کرائے گا۔ یہ ایک اہم شعبہ ہے جس پر گہری نظر رکھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
قابلِ تجدید توانائی میں شمسی توانائی، ہوا کی توانائی، جوہری توانائی، حیاتیاتی توانائی اور پن بجلی شامل ہیں۔ یہ توانائی کے مختلف ذرائع کا امتزاج ہے۔ تاہم اس مہم میں شمسی اور ہوا کی توانائی سب سے آگے ہیں۔ چین اپنی ملکی سطح پر اس سلسلے میں عملی اقدامات کر رہا ہے۔
اس سے نہ صرف چین بلکہ دیگر ممالک کے لئے بھی مزید مواقع پیدا ہوں گے۔ بنیادی طور پر یہ چین کے بجلی پیدا کرنے کے نظام اور اس کے استعمال کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی لائے گا۔
چین کارکردگی میں بہتری اور ماحول دوست منتقلی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس تبدیلی کو فروغ دے رہا ہے۔
یوں چین عملی اقدامات کر رہا ہے اور ایک نئی منڈی تشکیل دے رہا ہے۔ اس سے نہ صرف چین بلکہ دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔”
اسلام آباد سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین کے ماحول دوست ترقی کے اقدامات عالمی توجہ کا مرکز بن گئے
پاکستانی ماہر کے مطابق چین کی ماحول دوست ترقی نے عالمی مواقع میں اضافہ کیا
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت چین نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہا ہے
پیداوار کے جدید طریقے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے پر کام جاری
شمسی توانائی اور ہوا کی توانائی چین کی ماحول دوست مہم میں سرفہرست ہیں
چین حیاتیاتی توانائی، جوہری توانائی اور پن بجلی کے عملی اقدامات کر رہا ہے
ماحول دوست ترقی چین ہی نہیں دیگر ممالک کے لئے بھی فائدے کا باعث
نئے اقدامات چین کے بجلی پیدا کرنے کے نظام میں بڑی تبدیلی لائیں گے
چین کارکردگی اور ماحول دوست منتقلی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اصلاحات کر رہا ہے
چین کی نئی منڈی سے پوری دنیا کو فوائد ملیں گے




