واشنگٹن (شِنہوا) امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے خلاف اسرائیلی حملوں کی حمایت کرے گا۔
سی بی ایس نیوز نے معاملے سے واقف دو ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ نے یہ بات دسمبر میں فلوریڈا میں مار-اے-لاگو میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران کہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں نے اس بات پر بھی غور کیا کہ واشنگٹن کس طرح ایران کے میزائل انفراسٹرکچر کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں اسرائیل کی مدد کر سکتا ہے، جس میں اسرائیلی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہمی اور متعلقہ علاقائی ممالک سے فضائی پرواز کی اجازت حاصل کرنے میں مدد شامل ہے۔
تاہم اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے عوامی طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی حملے یا ایران کی جانب سے دیگر ممالک پر حملے کے لئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سلوواکیہ کے دورے میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہونے کی توقع ہے۔ روبیو نے تصدیق کی کہ امریکی نمائندہ سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکرات میں واشنگٹن کی نمائندگی کریں گے۔




