ہفتہ, فروری 7, 2026
تازہ ترینبارسلونا میں آئی ایس ای ٹریڈ شو، چینی کمپنیاں یورپی منڈی میں...

بارسلونا میں آئی ایس ای ٹریڈ شو، چینی کمپنیاں یورپی منڈی میں کاروبار بڑھانےکے لئے سرگرم

اسپین کے شہر بارسلونا میں انٹیگریٹڈ سسٹمز یورپ (آئی ایس ای) ٹیکنالوجی ٹریڈ شو کا اب تک کا سب سے بڑا ایڈیشن جاری ہے۔

منگل سے جمعے تک جاری رہنے والی اس نمائش میں ایک ہزار 700 سے زائد کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ سال 2025 کے مقابلے میں 6 فیصد کا اضافہ ہے۔

چینی کمپنیاں اس سالانہ ایونٹ کو یورپی منڈی میں اپنا کاروبار بڑھانے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (ہسپانوی): لی شانگ شینگ، نمائندہ، یونی لومِن گروپ کمپنی لمیٹڈ

” سب سے پہلے یہ ہمیں اپنی مصنوعات صارفین کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ ہمیں گاہکوں کی آراء سننے اور اپنی مصنوعات یورپ سمیت دنیا بھر میں فروخت کےذرائع بڑھانے کا بھی موقع دیتا ہے۔

ہم ہر سال اس میں شرکت کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں بہت سے لوگ ہماری ٹیکنالوجی اور جدت کے بارے میں جاننے آتے ہیں۔ یہ ٹریڈ شو ہمیں خدمات کے ذریعے حل پیش کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ژو یِنگ چی، انٹرنیشنل سیلز نمائندہ، یس ٹیک

"یس ٹیک تقریباً دس برس سے اس نمائش میں حصہ لے رہی ہے اور ہمیں اس سال یہاں نمایاں کامیابی ملی ہے۔

آئی ایس ای نمائش نے ہمارے برانڈ اور عالمی منڈی میں اثر و رسوخ کو بڑھایا اور ہمارے لئے بے شمار مواقع پیدا کئے ہیں۔”

بارسلونا، اسپین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

بارسلونا میں آئی ایس ای ٹیکنالوجی ٹریڈ شو کا سب سے بڑے ایڈیشن جاری

نمائش میں ایک ہزار 700 سے زائد کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں

چینی کمپنیاں عالمی ایونٹ کو یورپی منڈی میں توسیع کا اہم موقع سمجھتی ہیں

نمائش میں جدید ڈسپلے سسٹمز اور اسمارٹ ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز رہی

نمائندوں نے صارفین کی آراء سنیں اور نئی شراکتوں کے مواقع پر بات کی

آئی ایس ای نمائش نے چینی برانڈز کو عالمی منڈی میں نمایاں مقام دلایا

عالمی خریدار اور سرمایہ کار چینی ٹیکنالوجی اور اختراعات دیکھنے کے لئے آئے

چینی کمپنیوں کے لئے  یورپی منڈی میں کاروبار بڑھانے کے مواقع پیدا ہوئے

آئی ایس ای ٹریڈ شو عالمی ٹیکنالوجی تعاون اور مارکیٹ توسیع میں اہم کردار ادا کر رہا ہے

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!