بدھ, فروری 4, 2026
پاکستانسپر ٹیکس سے لوگوں پر دباؤ اور بوجھ بڑھا ہے، سینیٹر شیری...

سپر ٹیکس سے لوگوں پر دباؤ اور بوجھ بڑھا ہے، سینیٹر شیری رحمٰن

صنعت، کاروبار اور دیگر پر سپر ٹیکس کا معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پہنچ گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے معاملہ کمیٹی میں اٹھاتے ہوئے کہا آئینی عدالت نے تو کہہ دیا کہ سپر ٹیکس پارلیمان کا اختیار ہے، سپر ٹیکس سے لوگوں پر دبائو اور بوجھ بڑھا ہے۔

سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ایف بی آر نے اب گرفتاریوں سے ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا فروری چل رہا ہے دو ماہ بعد ہم دوبارہ آپکے پاس آجائینگے، بجٹ کا انتظار نہ کریں آپ مجموعی صورتحال پر بریفنگ لیں، چیئرمین ایف بی آر سے اصلاحات پر مکمل پریزنٹیشن لی جائے۔

شیری رحمن نے کہا ایک ہی کلاس سے بار بار ٹیکس ریونیو میں اضافہ کوئی ماڈل نہیں، وزیر خزانہ نے کہا کہ اب بات نکل چکی ہے۔

شیری رحمن نے کہا آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق دہرایا جارہا ہے کہ جلد ہم اس سے نکلیں گے، انہوں نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کے بعد زمینی حقائق کو بھی دیکھا جائے، کور گروتھ کیساتھ لوگوں کیلئے بہت کچھ ہونا ابھی باقی ہے، لوگ پبلک پرائیویٹ سیکٹرز سے بیروزگار ہو رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا جو ادارے بند ہو رہے ہیں انکو مکمل پیکجز کیساتھ بند کیا جا رہا ہے، کسی کیساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو رہی، جب بینکنگ سیکٹر پرائیویٹ ہوا تو 50ہزار لوگ بیروزگار ہوئے۔

سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ سپر ٹیکس کا فیصلہ آگیا ہے، لوگ کیسے گزشتہ تین چار سال کا ٹیکس دینگے، اگر کوئی بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے تو کیا ضروری ہے اسکو تنگ کیا جائے، اس طرح تو آپ لوگوں کو ملک سے کک آؤٹ کر رہے ہیں، تمام بزنس کمیونٹی اور چیمبرز کے اس پر شدید تحفظات ہیں، ایف بی آر جس طرح ہراساں کر رہا ہے وہ بھی درست نہیں، فوری ٹیکس ادائیگی کیلئے دباؤ کے بجائے وصولی 2، 3 سال میں کی جائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر کمیٹی سے اس معاملے پر مشاورت کرینگے، چیئرمین ایف بی آرکمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دفعہ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے عالمی امداد نہیں مانگی گئی، ہمارے پاس اضافی وسائل دستیاب تھے، آپکی تجاویز کو نوٹ کر لیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کسی کاروبار کو بند نہیں کیا جائیگا، ضرورت پڑی تو کچھ کیسز میں اقساط بھی کردینگے، سپر ٹیکس کی کل وصولی 217 ارب روپے بنتی ہے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!