قومی اسمبلی نے بلوچستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردوں کے حملوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔
منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے بلوچستان میں دہشت گردی کیخلاف قراداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جن میں نہ صرف معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور بلکہ خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی حربے اپنائے گئے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کے استحصال، زبردستی، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں ریاست اور معاشرے کیخلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اسلامی پاکستانی، اور بلوچ اقدار کے سراسر منافی ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں، قرارداد میں ریاست سے ایسے عناصر کے خلاف عدم برداشت کے اصول کے تحت فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متعدد واقعات میں بیرونی سرپرستی بالخصوص انڈیا کے کردار کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پائے جاتے ہیں جبکہ بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک اور آپریشنل سہولت کاری اور مالی معاونت اور تربیت کے ذریعے دہشت گردی کو تقویت دی جاتی ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ان بیرونی سپانسرز اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف فوری اور مربوط قومی رد عمل یقینی بنایا جائے جس میں سیاسی، سفارتی عسکری انٹیلی جنس، قانونی اور بیانیاتی محاذ یکجا ہوں۔
قرارداد میں شہدا اور زخمیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
اسپیکر نے اراکین سے قرارداد کے حق اور مخالفت میں رائے طلب کی۔
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے اعتراض کیا کہ اس قرارداد کے آغاز میں ہر صوبے کے وسائل اس کے عوام کے ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، ہمیں مشترکہ پیغام دینا چاہئے۔
نور عالم خان نے کہا کہ قرارداد میں خیبرپختونخوا کو بھی شامل کریں، دہشت گردی خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ ہو رہی ہے، دہشت گردی کی ہر قسم کیخلاف بولنا ہوگا۔
سحر کامران نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور ہندوستان کے اتحاد کو سامنے رکھیں تو یہ ایک منظم حملہ تھا، فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اس حملے کو ناکام بنایا۔بعد ازاں قرارداد منظور کرلی گئی۔




