ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): محمد ابوشتار، پرائمری اسکول کا طالب علم، سنکیانگ، چین
"فٹبال کی حکمتِ عملی سمجھاتے ہوئے ایک پرائمری اسکول کے طالب علم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ کئی میڈیا اداروں نے اسے دوبارہ شیئر بھی کیا ہے۔کچھ صارفین نے تو یہاں تک کہا کہ ’یہ تو چین کا جوزے مورینہو ہے۔‘
ویڈیو میں نظر آنے والا ننھا لڑکا میں ہی ہوں۔ ظاہر ہے میں مورینہو نہیں ہوں۔ میں محمد ہوں۔
ہمارا اصل مقصد گول کرنا اور میچ جیتنا ہے۔ ٹھیک ہے؟”
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): محمد کے ساتھی کھلاڑی
"جی ہاں!”
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): محمد ابوشتار، پرائمری اسکول کا طالب علم، سنکیانگ، چین
"تو میری حکمتِ عملی کیا تھی؟ زیادہ پاس دینا، مسلسل دوڑتے رہنا اور اپنے ساتھیوں کی مدد کرنا۔ ٹھیک ہے؟ ایک، دو، تین، چلو!
ہم جیت گئے! آپ کو میری حکمتِ عملی کیسی لگی؟
سچ تو یہ ہے کہ حکمتِ عملی سمجھانے سے زیادہ مجھے میدان میں فٹبال کھیلنا پسند ہے۔ مجھے گول کرنا اچھا لگتا ہے، ایک کے بعد ایک، اور آخر میں میچ جیتنا۔میرا خواب ہے کہ میں کاکا جیسا اسٹرائیکر بنوں اور مسلسل میچ جیتتا رہوں۔
اسی لیے وقفے کے دوران میں سب سے پہلے کھیل کے میدان کی طرف دوڑ لگاتا ہوں۔ اسکول سے گھر واپسی کا راستہ بھی اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔
برف سے ڈھکا میدان بھی حوصلے اور ثابت قدمی کو آزمانے کی بہترین جگہ ہے۔
لیکن فٹبال میں کبھی کبھار ٹیلنٹ بھی ضروری ہوتا ہے۔ میرا ٹیلنٹ میرے پہلے کوچ سے آیا ہے، یعنی میرے والد سے۔ میرے والد بھی فٹبال کے شوقین ہیں اور ہماری ’ولیج سپر لیگ‘ ٹیم کے رکن ہیں۔ میں نے انہیں کھیلتے دیکھ کر ہی فٹبال سے محبت کرنا شروع کی۔
مجھے معلوم ہے کہ آگے کا راستہ ابھی طویل ہے مگر میں ہر میچ کو سنجیدگی سے کھیلوں گا۔
مجھے امید ہے کہ ایک دن میں بین الاقوامی اسٹیج پر کھڑا ہو کر اپنے ملک کے لیے فخر کا باعث بنوں گا اور پوری دنیا کو دکھاؤں گا کہ چین کے سنکیانگ سے بھی ایک شاندار فٹبالر آ سکتا ہے۔
میں محمد ابوشتار ہوں۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔”
اُرمچی، چین سے نمائندہ شِنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ




