جاپان میں ملک کے سابق وزیراعظم شنزو آبے کو سرعام قتل کرنیوالے ملزم کو بھری عدالت میں سزا سنادی گئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 45 سالہ ملزم ٹیٹسویہ یاماگامی کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم شنزو آبے کا قتل ایک سوچا سمجھا اور انتہائی سنگین جرم تھا جس نے جاپانی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔
استغاثہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ قتل محض ایک فرد پر حملہ نہیں تھا بلکہ جمہوری عمل، عوامی اعتماد اور قومی سلامتی پر براہِ راست ضرب تھی، پراسیکیوشن کے مطابق واقعے نے جاپانی سیاست اور سکیورٹی انتظامات پر گہرے سوالات کھڑے کئے اور معاشرے میں خوف و بے چینی کو جنم دیا۔
دوسری جانب ملزم کے وکلاء نے عدالت سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے 20سال قید کی سزا دینے کی درخواست کی تھی، دفاع نے موقف اپنایا کہ یاماگامی کے خاندان کو ماضی میں شدید مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا رہا جس نے اسکی ذہنی حالت پر منفی اثرات ڈالے تاہم عدالت نے اس دلیل کو سزا میں نرمی کیلئے ناکافی قرار دیتے ہوئے عمر قید برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔




