سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں امتحانی نتائج کیلئے رائج نمبر سسٹم ختم کر کے عالمی معیار کا گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر بورڈز و جامعات محمد اسماعیل راہو نے بتایا کہ اہم فیصلہ انٹر بورڈ کوآرڈنیشن کمیشن کے وفاقی سطح پر کئے گئے پالیسی فیصلوں کی روشنی میں کیا گیا ہے، نئے گریڈنگ سسٹم کا اطلاق صوبہ بھر میں مرحلہ وار کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں اب نمبروں کی بجائے گریڈنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا، 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ فیل تصور ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال 2026ء میں نویں اور گیارہویں جماعت کے پہلے سالانہ امتحانات سے اس نظام کا آغاز ہوگا، جبکہ 2027میں دسویں اور بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات پر بھی اس کا اطلاق کیا جائے گا۔
نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت طلبہ کی کارکردگی درج ذیل گریڈز میں تقسیم کی جائے گی۔
اے ڈبل پلس 96فیصد سے 100فیصد، اے پلس 91فیصد سے 95فیصد ، اے 86فیصد سے 90فیصد ،بی ڈبل پلس81فیصد سے 85فیصد ہوگا، بی پلس 76فیصد سے 80فیصد، بی 71 فیصد سے 75فیصد ، سی پلس 61 فیصد سے 70فیصد، سی 51فیصد سے 60فیصد ہوگا، ڈی 40فیصد سے 50فیصد امرجنگ ہوگا، یو 40فیصد سے کم (ناکام / انڈر گریڈ)ہوگا۔
نئی پالیسی کے تحت پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40فیصد مقرر کی گئی ہے، وہ طلبہ جو کسی بھی پرچے میں 40فیصد سے کم نمبر حاصل کریں گے، انہیں یو یعنی ان گریڈڈ قرار دیا جائے گا، تاہم ایسے طلبہ کو اسی مضمون میں دوبارہ امتحان دے کر اپنی کارکردگی بہتر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
محمد اسماعیل راہو کے مطابق نظام کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں یکسانیت لانا ہے، جبکہ تمام بورڈز میں اس نظام کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔




