واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں بدامنی کے جواب میں اقدامات کے لئے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ صدر اور ان کی ٹیم اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور صدر کے لئے تمام آپشنز بدستور زیر غور ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے “سنگین نتائج” ہوں گے۔
نیویارک ٹائمز نے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کو ٹرمپ سے بات کی اور وائٹ ہاؤس سے درخواست کی کہ ایران پر کسی بھی امریکی فوجی حملے کو موخر کیا جائے جس پر ٹرمپ مبینہ طور پر کئی دنوں سے غور کر رہے ہیں۔
امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں موجود اڈوں سے اپنے اہلکاروں کو نکال رہی ہے اور خطے میں اضافی کمک بھیج رہی ہے۔
جمعرات کو امریکی محکمہ خزانہ نے مبینہ طور پر ایران سے تعلق رکھنے والے 20 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیوں کا اعلان کیا۔
دسمبر کے آخر سے ایران کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ معاشی شکایات کے حل کے لئے تیار ہیں تاہم تشدد، توڑ پھوڑ اور بدامنی کے خلاف خبردار کیا گیا ہے۔




