برونائی کے دارالحکومت بندر سری بیگاوان میں "چائنیز کلنری نائٹ: اے ٹیسٹ آف گوانگ شی” تقریب منعقد ہوئی ہے، جس میں روایتی کھانوں کی ثقافت اور چین اور برونائی دوستی کو فروغ دیا گیا ہے۔
یہ تقریب برونائی میں چینی سفارتخانے کی جانب سے لکشمانا کالج آف بزنس (ایل سی بی) میں منعقد کی گئی ہے۔ تقریب میں برونائی کے وزرا، سرکاری حکام، سفارتکاروں، کاروباری شخصیات اور دیگر نمایاں مہمانوں سمیت تقریباً 80 افراد نے شرکت کی ہے۔
چین کے خودمختار علاقے گوانگ شی ژوانگ کی گُوئی لِن ٹورزم یونیورسٹی اور برونائی کے لکشمانا کالج آف بزنس کی ٹیموں نے اپنے مخصوص پکوان تیار کیے ہیں اور کھانا پکانے کے طریقے اور کھانوں کی ثقافت کا تبادلہ کیا ہے۔
روایتی چینی چائے تیار کرنے کے مظاہرے کے دوران تقریب کا ہال چائے کی خوشبو سے مہک اٹھا۔ برونائی کے مہمانوں نے بھی اس عمل میں حصہ لیا اور تازہ تیار شدہ گوانگ شی چائے کا ذائقہ بھی چکھا ہے۔
چین کے سفیر برونائی شیاو جیان گو کا کہنا ہے کہ "کھانوں کی ثقافت روایتی چینی تہذیب کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ہر ڈش نہ صرف چین کے گوانگ شی کے منفرد ذائقوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ ایشیا کے جنوب مشرقی کھانوں کی روح بھی سموئے ہوئے ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ہر نوالے میں ہم گوانگ شی، برونائی اور پورے آسیان خطے کے گہرے ثقافتی روابط کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں اور ثقافتی تبادلے اور باہمی سمجھ بوجھ کے دلکش پہلوؤں کا براہِ راست تجربہ کرتے ہیں۔”
ایل سی بی کے سی ای او اور ڈپٹی پرنسپل ایس سیورا جاہ نے کہا کہ یہ تقریب چین اور برونائی کے درمیان کھانوں اور ثقافت کے تبادلے کو فروغ دینے، پکوان کے طریقوں کو بانٹنے اور دونوں قوموں کے عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
بندر سری بیگاوان، برونائی سے نمائندہ شِنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ

شنہوا
- شنہوا#molongui-disabled-link
- شنہوا#molongui-disabled-link
- شنہوا#molongui-disabled-link
- شنہوا#molongui-disabled-link