تائیوان کے بارے میں جاپان کے حالیہ بیانات پر عالمی سطح پر سخت تنقید سامنے آئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تائیوان چین کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور اس حقیقت کو کسی صورت چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (ہسپانوی): پیٹریسیو جیوسٹو، ڈائریکٹر، سائنوا رجنٹائن آبزرویٹری
"تائیوان سے متعلق جاپانی وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی کے یہ بیانات انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دئیے جا رہے ہیں۔ تائیوان کا معاملہ چین کی خارجہ پالیسی کی بنیادی سرخ لکیر ہے۔چین اس معاملے میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا سیاسی استعمال کو برداشت نہیں کرتا۔میری رائے میں یہ بیانات حقیقتاً ایک نہایت اشتعال انگیز اور افسوسناک قدم ہیں۔ چین کی سال 1949 سے اب تک ’وَن چین پالیسی‘ چین کی سرحدی سالمیت سے جڑی ہوئی ہے۔ چین کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا خاص طور پر جب بعض خارجی قوتیں اس معاملے کو سیاسی فائدے کے لئےاستعمال کرنا چاہیں۔
یہ بہت ضروری ہے کہ جاپان کے وزیرِ اعظم اس معاملے کی سنگینی کو سمجھیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (روسی): ماریا زاخارووا، ترجمان، روسی وزارتِ خارجہ
"ہم افسوس کے ساتھ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ جاپانی عسکریت پسندی کا اختتام کس طرح ہوا ۔پوری دنیا اور خود جاپان کو اس کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ لہٰذا جاپان پر حکومت کرنے والے سیاستدانوں کو یہ یاد رکھنا اور سمجھنا چاہئے کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کس نتیجے تک لے جا سکتے ہیں۔ اس لئے ایسے بیانات دینے سے گریز کیا جائے۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): کوان کی سک، سربراہ، کوریاچائنہ سٹی فرینڈشپ ایسوسی ایشن
"تاکائچی کے تائیوان کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دنیا اور مشرقی ایشیا کے امن کے لئے انتہائی مضر اور غیر مناسب ہیں۔
یہ نہ صرف چین اور جاپان کے درمیان دوستی بلکہ دونوں ملکوں کے عوام اور مشرقی ایشیا کے لوگوں کے لئےبھی بہت نقصان دہ ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): جوزف گریگری مہونی، پروفیسر ، شعبہ سیاسیات، ایسٹ چائنہ نارمل یونیورسٹی
جاپان کے پاس بین الاقوامی طور پر تائیوان سے متعلق معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ جاپان کی طرف سے اس اصول کی خلاف ورزی دراصل پوری دنیا کے خلاف عمل کرنے کے مترادف ہے۔ ماضی میں بھی جاپان اسی قسم کی سنگین اخلاقی غلطی کر چکا ہے ۔اگر ٹوکیو اسی تاریک راستے پر چلتا رہا تو آج بھی ماضی کی صورتحال دوبارہ سامنے آ سکتی ہے۔”
بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
تائیوان سے متعلق بیانات پر جاپان کو عالمی تنقید کا سامنا
ماہرین کے مطابق تائیوان چین کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے
چین نے تائیوان معاملے میں کسی بھی مداخلت کو مسترد کیا ہے
جاپانی وزیرِ اعظم کے بیانات کو انتہائی غیر ذمہ دار قرار
جاپان کے رہنماؤں سے معاملے کی سنگینی کو سمجھنے کی اپیل
روس کے مطابق جاپان کو ماضی سےسبق حاصل کرنا چاہئے
غیر ذمہ دارانہ بیانات مشرقی ایشیا سمیت دنیا کےامن کے لئے خطرہ ہیں
چین اور جاپان کے درمیان دوستانہ تعلقات پر منفی اثرات پڑیں گے
جاپان کے پاس تائیوان میں مداخلت کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں
ٹوکیو نے روش نہ بدلی تو ماضی کی اخلاقی ناکامی پھر سامنے آ سکتی ہے




