وزیراعظم شہباز شریف نے امن پر مبنی عالمی نظام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی تنازعات کے تناظر میں پرامن بقائے باہمی کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے، ہمیں مل کر ایسی دنیا کی تعمیر کے لئے کام کرنا ہوگا جہاں تصادم کی بجائے تعاون و امن غالب ہو۔
پرامن بقائے باہمی کے عالمی دن پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم اقوام عالم کیساتھ مل کر پر امن بقائے باہمی کا عالمی دن منا رہا رہے ہیں، یہ دن ہر سال اقوام متحدہ کی جانب سے ممالک اور نوع انسانی کے مابین ہم آہنگی، اتحاد اور باہمی احترام کے فروغ کے لئے منایا جاتا ہے جس کا مقصد کرہ ارض پر تعلیم، مکالمے اور بین المذاہب تعاون کے ذریعے تصادم اور کشیدگی کا مقابلہ کرنا ہے، یہ دن اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دنیا میں پائیدار امن صرف اس صورت ممکن ہے جب لوگ عزت وقار، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کا طرز عمل اختیار کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا مختلف ثقافتوں، مذاہب، زبانوں اور نظریات کے تنوع سے مالا مال ہے اور یہ تنوع کوئی خطرہ نہیں بلکہ مثبت طاقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جب ممالک کو تنازعات، تقسیم اور متعدد عالمی چیلنجز کا سامنا ہے لہذا پر امن و بقائے باہمی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات بھی دیگر اقوام اور برادریوں کے ساتھ رواداری، شمولیت اور ہم آہنگ رویے پر زور دیتی ہیں۔
وزیراعظم نے اس دن کی مناسبت سے انفرادی اور بحیثیت قوم مجموعی طور پر تقسیم کی بجائے مکالمے، تعصب کی بجائے سمجھ بوجھ، دشمنی کی بجائے رواداری کو اپنانے کے عزم کی تجدید پر زور دیا تاکہ پرامن بقائے باہمی محض ایک تصور نہ رہے بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے لئے ایک زندہ حقیقت بن جائے اور عملی اقدام کی بھی ترغیب دے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آئیے ہم آنیوالی نسلوں کیلئے مثال قائم کریں کہ اختلافات خطرہ نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئیں مل کر ایسی دنیا کی تعمیر کیلئے کام کریں جہاں تصادم کی بجائے تعاون و امن غالب ہو۔




