ہفتہ, جنوری 24, 2026
تازہ ترینچین میں ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کی مقبولیت میں اضافہ

چین میں ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کی مقبولیت میں اضافہ

ہیفے (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کے دارالحکومت ہیفے میں میکسٹرو سپر فیکٹری میں اسمبلی لائن سے تیار ہو کر نکلنے والی ہر نئی توانائی والی گاڑی (این ای وی) ایک "جڑواں” کے ساتھ تیار ہو کر آتی ہے۔

ان میں سے ایک تو فولاد، سرکٹس اور سینسرز سے بنی ٹھوس مشین ہے جو سڑک پر دوڑنے کے لئے تیار ہے جبکہ دوسری اس کا ایک تخیلاتی عکس ہے جو کلاؤڈ پر موجود ہے۔ یہ کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ اس "ڈیجیٹل ٹوئن” فیکٹری کی روزمرہ کی حقیقت ہے جہاں مادی مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل سیمولیشن ایک ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہیں۔

آنہوئی کی کار ساز کمپنی جے اے سی گروپ اور ٹیکنالوجی کمپنی ہواوےکے اشتراک سے تعمیر کی گئی یہ میکسٹرو سپر فیکٹری اعلیٰ معیار کی نئی توانائی گاڑیاں تیار کرنے میں مہارت رکھتی ہے جس کی بنیاد سمارٹ مینوفیکچرنگ پر استوار ہے۔

فیکٹری کے ایک ایگزیکٹو وی داوی کے مطابق پروڈکشن لائن پر موجود روبوٹس، کیمروں اور سینسرز سے جمع ہونے والا ریئل ٹائم ڈیٹا تقریباً 3 لاکھ انٹریز فی سیکنڈ کی رفتار سے فیکٹری کے "ڈیجیٹل ٹوئن” سسٹم کو منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم ہر گاڑی کی تیاری کے مکمل عمل کا ڈیجیٹل مشاہدہ یا سیمولیشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جیسے جیسے مادی دنیا میں ایک نئی کار تیار ہوتی ہے، قریب لگی ایک سکرین پر اس کی تیاری کے سفر کا ورچوئل عکس بالکل اسی ترتیب  سے چلتا دکھائی دیتا ہے۔

وی داوی نے بتایا کہ ڈیجیٹل ٹوئن محض ایک سادہ 3 ڈی کاپی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ فیکٹری کے ایک سمارٹ دماغ کے طور پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی فیکٹری میں کوالٹی کنٹرول اور پیداواری عمل کو بہتر بنانے کی کوششوں میں گہرائی تک شامل ہے۔

وی نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹوئن سسٹم کو انسانی میٹابولزم سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جو مسلسل دہرائے جانے کے ذریعے خود کو ارتقا پذیر بنا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیداواری ڈیٹا کے تجزیے کے لئے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے یہ سسٹم ورک فلو کو بہتر بنانے اور کارکردگی بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!