بیجنگ (شِنہوا) چین میں عوامی سلامتی کی صورتحال میں بہتری کا سلسلہ گزشتہ سال بھی جاری رہا جہاں عوامی اطمینان کی شرح مسلسل چھٹے سال 98 فیصد سے زائد رہی جبکہ ملک بھر میں فوجداری مقدمات کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.8 فیصد کمی واقع ہوئی۔
یہ اعداد و شمار اتوار اور پیر کو بیجنگ میں عدالتی، استغاثہ اور عوامی سلامتی کے امور سے متعلق ایک مرکزی اجلاس کے دوران جاری کئے گئے۔
اجلاس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی حکام نے 2025 میں ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں اور شمالی میانمار میں سرگرم 4 بڑے خاندانی مجرمانہ گروہوں کو کاری ضرب لگائی۔
اب تک مجموعی طور پر 57 ہزار مجرموں کو چین واپس منتقل کیا جا چکا ہے۔ خاص طور پر جوئے اور دھوکہ دہی کے گروہ کے سرغنہ چھن ژی کو گزشتہ سال چین کے حوالے کیا گیا تھا۔
منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف جنگ میں بھی تاریخی پیش رفت ہوئی جس کے نتیجے میں ملک بھر میں رجسٹرڈ منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں 2020 کے اختتام کے مقابلے میں 63 فیصد کمی آئی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی و قانونی امور کے کمیشن کے سربراہ چھن وین چھنگ نے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ پرامن چین کے اقدام اور ملک میں قانون کی حکمرانی کو مزید اعلیٰ سطح پر لے جانے کے لئے کوششیں کی جائیں تاکہ 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے آغاز کے لئے ٹھوس ضمانت فراہم کی جا سکے۔




