ہفتہ, جنوری 17, 2026
تازہ ترین2025 میں چین کی ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور خلائی ترقی نے دنیا کو...

2025 میں چین کی ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور خلائی ترقی نے دنیا کو حیران کر دیا

اسٹینڈ اپ 1 (انگریزی): یو جِیامینگ، نمائندہ شِنہوا

"اختراعی کامیابیوں نے سال 2025 میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں چین کی صفِ اوّل کی حیثیت مزید مضبوط کر دی ہے۔

آئیے اُن شعبوں میں سے چند ایک پر نظر ڈالتے ہیں جہاں چین نئی حدیں عبور کر رہا ہے۔”

ہم ہانگ ژو سےآغاز کرتے ہیں جو چین کے چند انتہائی متحرک ٹیکنالوجی کے نمایاں مراکز میں شامل ہے۔ یہاں جدت پر صرف بات ہی نہیں کی جاتی بلکہ اسے عملاً اپنایا بھی جاتا ہے۔

سال 2025 کے آغاز میں ہانگ ژو کی مصنوعی ذہانت کمپنی ڈیپ سیک نے اپنے طاقتور مگر کم لاگت آر ون ماڈل کی لانچ کے ساتھ دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): میرک ڈوسیک، ڈائریکٹر، عالمی اقتصادی فورم

"دنیا میں چین کے جدت طرازی کے ماحولیاتی نظام کے حوالے سے کافی تجسس پایا جاتا ہے۔ ایسا خاص طور پر ڈیپ سیک کے بعد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مصنوعی ذہانت کےاختراعی ماحولیاتی نظام پر مزید توجہ دی جا رہی ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جیفری سیچس، اکنامکس پروفیسر، کولمبیا یونیورسٹی

"میں ڈیپ سیک کو ہر گھنٹے استعمال کرتا ہوں۔ ڈیپ سیک میرے فون پر استعمال ہونے والے معمول کے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا مجموعہ ہے اور یہ انتہائی مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔”

کیپشن:

چین کی بنیادی مصنوعی ذہانت کی صنعت 2025 کے اختتام تک 10کھرب یوآن (تقریباً 1 ارب 42 کروڑ امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی۔

شہر بھر میں ایک اور قسم کی ذہانت عملی شکل اختیار کر رہی ہے۔

چین کے 2025 اسپرنگ فیسٹیول گالا میں یانگو رقص کرنے والے روبوٹس سے لے کر مقابلہ جاتی میدانوں کے جنگی مشینی روبوٹس اور انسانی وزن اٹھانے والے آل ٹیرین روبوٹک کتوں تک یونٹری روبوٹکس جدت کی حدود کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): وانگ شنگ شنگ، بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر،  یونٹری روبوٹکس

"مستقبل قریب میں ذہین روبوٹس کمپیوٹرز کی طرح ترقی کی راہ پر چلیں گے اور تفریح اور عملی استعمال دونوں میں آگے بڑھیں گے۔  انسان نما روبوٹس ہماری روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں میں زیادہ سے زیادہ شامل ہوتے جائیں گے۔ وہ نہ صرف کھیلوں کی تقریبات اور تجارتی خدمات میں حصہ لیں گے بلکہ کارخانوں میں عملی مدد فراہم کر کے ہمارا محنت کا بوجھ کم کریں گےاور روزمرہ زندگی میں خوشیاں بڑھائیں گے۔”

کیپشن:

چین کےاعلیٰ اقتصادی منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق ملک میں اس وقت انسان نما روبوٹ بنانے والی 150 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں۔

فی الحال یہ شعبہ سالانہ 50 فیصد سے زیادہ کی شرح سے بڑھ رہا ہے اور توقع ہے کہ سال 2030 تک اس کا مارکیٹ حجم 100 ارب یوآن (تقریباً 14 ارب 22 کروڑ  امریکی ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔

اسٹینڈ اپ 2 (انگریزی): یو جِیامینگ، نمائندہ شِنہوا

"لیکن یہاں کی جدت صرف کارخانوں یا تحقیقی لیبارٹریوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ فضاء کی حدود سے بھی آگے پہنچ رہی ہے۔”

صوبہ ہینان میں چین کی تجارتی خلائی جہاز کی لانچنگ سائٹ خلائی صنعت کو آگے بڑھانے والا ایک اہم محرک بن رہی ہے۔

سال 2022 میں اپنے آغاز سے لے کر نومبر 2024 میں پہلی پرواز تک یہ بندرگاہ اب باقاعدہ اور کثرت سے انجام دی جانے والی خلائی پروازوں کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس سے اس کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہو گئی ہے۔

کیپشن:

پچھلے تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال 2025 میں چین کی تجارتی خلائی منڈی کی مجموعی مالیت 25 کھرب یوآن (تقریباً 3 ارب 48 کروڑ امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی تھی۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): یانگ تیانلیانگ، چیئرمین، ہینان انٹرنیشنل کمرشل اسپیس کمپنی

"”تجارتی خلائی شعبے کی اصل روح یہ ہے کہ  ادارہ جاتی، تکنیکی اور انتظامی جدت کے ذریعے کارکردگی میں بہتری لائی جائے۔

آئندہ مرحلے میں ہمارا ہدف مزید لانچ پیڈز تعمیر کرنا اور راکٹ کی بازیابی کے نظام  کو بہتر بنانا ہے تاکہ راکٹوں کے دوبارہ استعمال کو مؤثر طور پر فروغ دیا جا سکے۔

ہمیں یہ بھی امید ہے کہ ہمیں خلائی تحقیق اور ایروسپیس شعبے کی ترقی میں تعاون کے عزم کو اجاگر کرنے اور اسے دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔”

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

چین نے 2025 میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں عالمی قائد کا کردار ادا کیا

ہانگ ژو میں ڈیپ سیک کے اے آئی ماڈل نے دنیا کی توجہ حاصل کی

ڈیپ سیک کا آر ون ماڈل طاقتور اور کم لاگت والا ہے

چین کی بنیادی مصنوعی ذہانت کی صنعت 25 کھرب یوآن سے تجاوز کر گئی

یونٹری روبوٹکس انسان نما اور تفریحی روبوٹس میں مسلسل جدت لا رہا ہے

چین میں 150 سے زائد کمپنیاں انسان نما روبوٹ تیار کر رہی ہیں

انسان نما روبوٹ کا شعبہ سالانہ 50 فیصد سے زائد کی شرح سے بڑھ رہا ہے

سال 2030 تک اس شعبے کا مارکیٹ حجم 100 ارب یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے

چین کا تجارتی خلائی مرکز ہینان میں تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے

تجارتی خلائی مارکیٹ کی قیمت 2025 میں 25 کھرب یوآن سے تجاوز کر گئی

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!