کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنہ میں چین اور کمبوڈیا نے مشترکہ طور پر ثقافتی نمائش کا انعقاد کیا تاکہ 17 فروری کو آنے والے نئے چینی سال یا بہار کے تہوار کو منایا جا سکے۔
یہ تین روزہ ثقافتی میلہ جمعہ سے اتوار تک جاری رہا تاکہ شرکا کو نئے چینی سال کی رنگا رنگ ثقافت کو قریب سے دیکھنے اور محسوس کرنے کا موقع دیا جائے۔
تقریب میں شیر رقص، فنی پرفارمنسز کے علاوہ چین اور کمبوڈیا کی ثقافت اور کھانوں کی نمائش شامل تھی۔ شرکاء نے خوش قسمتی اور خوشی کی علامت چینی حروف لکھنے، کاغذی کٹنگ اور چینی چائے کے گوشے جیسی سرگرمیوں سے بھی لطف اٹھایا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (خمیر): کو سومالا، مہمان
"یہ پہلی بار ہے کہ میں اپنے بچوں کو اس نمائش میں لے کر آئی ہوں اور ہم سب بہت خوش ہیں۔
چین اور کمبوڈیا کی اس مشترکہ تقریب نے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی ثقافت کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع دیا ہے۔
یہ تقریب خاص طور پر دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا باعث ہے۔
"کمبوڈیا میں بہت سے لوگ چینی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور میں خود بھی چینی نسل سے تعلق رکھنے والی کمبوڈین ہوں۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (خمیر): کن ناری مورکوٹا، مہمان
"میرے لئے نمائش میں شرکت کا یہ پہلا موقع ہے۔
اس طرح کی تقریبات کمبوڈیا اور چین کے درمیان دوستی کے رشتے کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہم اپنی تہذیب اور ثقافت کا باہمی تبادلہ کر سکتے ہیں۔
لوگوں کا ماننا ہے کہ نیا چینی سال بدقسمتی کو دور کرتا ہے اور خوش قسمتی و خوشحالی لاتا ہےجبکہ یہ خاندانوں کے اکٹھا ہونے اور آباؤ اجداد کے لئے تشکر کے اظہار کا بھی موقع ہے۔”
نوم پنہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنہ میں چینی ثقافتی نمائش اختتام پذیر
نئے چینی سال کی رنگا رنگ روایات نمایاں انداز میں پیش کی گئیں
جمعہ سے اتوار تک جاری میلے میں شہریوں اور سیاحوں نے گہری دلچسپی لی
روایتی موسیقی، رقص اور کھانوں نے شرکا کو خوب محظوظ کیا
میلے کا مقصد لوگوں کو چینی ثقافت سے آگاہی دینا تھا
شرکا نے نئے سال کی تقریبات کو یادگار تجربہ قرار دیا
تین روزہ ایونٹ میں فنکاروں نے شاندار پرفارمنس پیش کی
مختلف ثقافتی مظاہروں نے ماحول کو خوشگوار اور رنگین بنایا
منتظمین کے مطابق ایونٹ سےعوامی رابطے مزید مضبوط ہوں گے




