اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے بارے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ مالیاتی راز داری حق معلومات پر فوقیت رکھتی ہے، ایکٹ کے تحت بھی ٹیکس ریکارڈ ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔
منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس خادم حسین سومرو نے ایف بی آر کی درخواست پر سماعت کی۔
دورانِ سماعت ایف بی آر کی جانب سے سینئر قانون دان حافظ احسان کھوکھر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 216دیگر تمام قوانین پر بالادست، ٹیکس دہندگان کی معلومات افشا کرنے پر مکمل قانونی پابندی ہے، ٹیکس دہندگان کی شناخت ظاہر کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی ہے، پی آئی سی نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے، قانون میں فراہم کی گئی یہ رازداری اتفاقی یا صوابدیدی نہیں بلکہ ایک دانستہ قانون سازی کا نتیجہ ہے، اس کا مقصد ٹیکس دہندگان کی معلومات کا تحفظ، ٹیکس نظام پر اعتماد کی بحالی اور حساس مالیاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
وکیل نے کہا کہ پی آئی سی کا آرڈر ٹیکس دہندگان کی رازداری کے تحفظ کیلئے بنائے گئے خصوصی مالیاتی قوانین سے براہِ راست متصادم ہے۔
بعد ازاں عدالت نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل اور حکم امتناع جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مالیاتی راز داری حق معلومات پر فوقیت رکھتی ہے، ایکٹ کے تحت بھی ٹیکس ریکارڈ ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔




