تازہ ترین2025 میں چین کی بنیادی اے آئی صنعت کا حجم 12...

2025 میں چین کی بنیادی اے آئی صنعت کا حجم 12 کھرب یوآن سے تجاوز کر گیا

بیجنگ (شِنہوا) 2025 میں چین کی بنیادی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعتی مالیت 12 کھرب یوآن (تقریباً 173.9 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایک اعلیٰ چینی عہدیدار نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی اعلیٰ معیار کی معاشی ترقی کے لئے ایک طاقتور محرک کے طور پر ابھر رہی ہے۔

صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر لی لے چھینگ نے چین کی قومی مقننہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ملک میں اے آئی کمپنیوں کی تعداد 6 ہزار 200 سے تجاوز کر گئی۔

لی کے مطابق چین میں مصنوعی ذہانت کا استعمال فیکٹریوں اور روزمرہ کی زندگی میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔  2025 کے اختتام تک ایسی مینوفیکچرنگ کمپنیاں، جن کا سالانہ کاروبار کم از کم 2 کروڑ یوآن ہے، میں سے 30 فیصد سے زیادہ اے آئی ٹیکنالوجی اپنا چکی تھیں۔ اس کے علاوہ چینی کمپنیوں نے 300 سے زیادہ انسان نما روبوٹ مصنوعات متعارف کروائی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کے تیار کردہ اے آئی ماڈلز عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کر رہے ہیں کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران اوپن سورس اے آئی ماڈلز ڈاؤن لوڈ کرنے میں چین دنیا بھر میں پہلے نمبر پر رہا۔

مصنوعی ذہانت کو اس سال کی حکومتی کارکردگی رپورٹ میں خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے، جسے جمعرات کو 14 ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے سیشن میں غور و خوض کے لئے پیش کیا گیا۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں