ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستان کے تاجروں کو 10سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہ اپنے بھائی وزیراعظم شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کا معترف ہوں، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کثیرجہتی شکل اختیار کرچکے ہیں، بزنس فورم میں معاہدوں پر عملدرآمد سے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ ازبک حکومت اور عوام پاکستان سے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، دونوں ممالک کے سرمایہ کاری، تاجر ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہورہے ہیں، بزنس فورم اور دورے سے دونوں ممالک میں تجارتی تعاون کو وسعت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آلات جراحی، ادویات کی تیاری میں تعاون فراہم کرینگے، ٹیکسٹائل میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی، انہوں نے کہاکہ ازبکستان میں کاروباری سرگرمیوں کیلئے سازگار ماحول دستیاب ہے، چین، کرغزستان اور ازبکستان پر این ایل سی سے تجارتی سرگرمیاں قابل ستائش ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستانی تاجروں کو10سال کیلئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائیگا، صحت کے شعبے میں بھرپور تعاون کیلئے تیار ہیں، 2026باہمی تعاون پرمبنی شراکت داری کے فروغ کا سال ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے شرکار کو خوش آمدید کہتا ہوں، دونوں ممالک میں اقتصادی تعلقات اور تجارتی روابط میں اضافہ خوش آئند ہے، نجی شعبوں کے درمیان 3 ارب40کروڑ ڈالر کے سمجھوتوں پر عملدرآمد اہم پیشرفت ہے، گزشتہ بزنس فورم کی بدولت باہمی تجارتی سرگرمیوں میں خاطرخواہ اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ باہمی اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بزنس فورم ایک موثر پلیٹ فورم ہے، گزشتہ ایک سال میں 450ملین ڈالر کی تجارتی سرگرمیاں ممکن ہوئیں، دونوں ممالک میں باہمی تجارت کے مزید فروغ کی صلاحیت موجود ہے، باہمی تجارت کا حجم2ارب ڈالرتک لیجانے، ازبکستان کیساتھ سائنس و ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے ازبک صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپکی قیادت میں ازبکستان کی مجموعی پیداوار گزشتہ 10 سال میں دوگنا ہوئی، ازبک قیادت نے 85لاکھ افراد کو غربت سے نکالا، بیروزگاری میں کمی کی، ہم ازبک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا محفوظ اور پرکشش ماحول فراہم کرینگے۔
شہباز شریف نے کہا پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں پلانٹس لگانے کے خواہاں ہیں، ٹیکسٹائل پلانٹس سے دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہوگا، ازبک تاجر تجاویز لائیں، بیوروکریسی کسی قسم کی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی۔




