پیر, فروری 2, 2026
پاکستانصدر مملکت نے دریاؤں کے بہاؤ میں تعطل لاکھوں زندگیوں، روزگار و...

صدر مملکت نے دریاؤں کے بہاؤ میں تعطل لاکھوں زندگیوں، روزگار و غذائی نظام کیلئے خطرہ قرار دے دیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے دریاؤں کے بہاؤ میں تعطل کو لاکھوں زندگیوں، روزگار اور غذائی نظام کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کو پاکستان کیخلاف بطور جنگی حربہ استعمال کرنے کی کوششوں کو مسترد کرنا ضروری ہے۔

دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن پر جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ آج کے دن آبی ذخائر کے تحفظ و پائیدار انتظام کے لئے ہماری وابستگی کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں، یہ دن 1971ء میں آبی ذخائر کے کنونشن جسے رامسر کنونشن بھی کہا جاتا ہے کے نفاذ کی یاد دلاتا ہے، پاکستان اس اہم معاہدے کا رکن ہے جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے آبی ذخائر، ان کے وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو فروغ دیتا ہے۔

صدر آصف زرداری نے کہا کہ ہمارے آبی ذخائر سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور سمندر کی سطح میں اضافے کے خلاف دفاع کی اولین صف کا کردار ادا کرتے ہیں، پاکستان کے متنوع آبی ذخائر، جن میں دریائی سیلابی میدان، بلند پہاڑوں پہ جھیلیں اور گلیشیر، اندرونی آبی ذخائر اور ساحلی و مینگروو ماحولیاتی نظام شامل ہیں، یہ ذخائر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی، پانی کے نظم و نسق اور آفات کے خطرات میں کمی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، ملک بھر میں آبی ذخائر کو غیر متوقع مون سون، گلیشیر کے پگھلاؤ میں تبدیلی اور تیزی، شدید گرمی (ہیٹ ویوز)، کم ہوتے سیلابی حفاظتی نظام اور بڑھتی ہوئی آلودگی جیسے دباؤ کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں آبی ذخائر کو خاص طور پر زیادہ مسائل درپیش ہیں جہاں تاریخی طور پر پانی کی کمی اور سمندر کی سطح میں اضافے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، انڈس ڈیلٹا اور تمر کے جنگلات (مینگروو) جو کبھی پانی کی کثرت والے علاقوں میں شمار ہوتے تھے آج نمکین پانی کے پھیلاؤ، ساحلی کٹائو اور مچھلیوں کی افزائش گاہوں کے خاتمے کا سامنا کر رہے ہیں، اسی طرح کینجھر، ہالیجی اور منچھر جیسے اندرونی آبی ذخائر میں تازہ پانی کی آمد میں کمی، طویل خشک سالی اور آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے ماہی گیری، پینے کے پانی کی دستیابی اور ہجرت کرنے والے پرندوں کے راستے متاثر ہو رہے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی شہریوں کیلئے آبی ذخائر روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں، یہ گھریلو استعمال اور منڈیوں کیلئے مچھلی فراہم، مویشیوں کے چرنے کیلئے چراگاہیں مہیا ،ایندھن اور رہائش کیلئے گھاس اور نباتات دیتے ہیں اور شدید بارش یا پانی کی کمی کے دوران دیہات کو قدرتی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ جب آبی ذخائر متاثر ہوتے ہیں تو لوگوں کو آمدنی میں کمی، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، غیر محفوظ پانی اور سیلاب و خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ ہمارے خطے میں پانی کی سلامتی ذمہ دار اور قانونی سرحد پار تعاون پر منحصر ہے، پاکستان سندھ طاس معاہدے 1960ء پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے جو ایک قانونی معاہدہ ہے اور دہائیوں سے انڈس بیسن میں منصفانہ پانی کی تقسیم کو یقینی بناتا رہا ہے، معاہدے کے تحت طے شدہ طریقہ کار کی معطلی، بشمول ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی میں رخنہ اس بھروسے اور پیش گوئی کی صلاحیت کو مجروح کرتی ہے جس کی ماحولیاتی دبا کے اس دور میں اشد ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں تعطل لاکھوں زندگیوں، روزگار اور غذائی نظام کیلئے خطرہ ہے، پانی کو پاکستان کیخلاف بطور جنگی حربہ استعمال کرنے کی کوششوں کو مسترد کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر کا تحفظ صرف قدرتی معاملہ نہیں بلکہ افراد، روزگار اور قومی مدافعت کا معاملہ ہے، پاکستان اس بات کی وکالت جاری رکھے گا کہ ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ان آبی ذخائر کا تحفظ ہے جو ہماری حفاظت کرتے ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ اس اہم دن پر میں تمام شہریوں، بالخصوص نوجوانوں، مقامی برادریوں اور پالیسی سازوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آبی ذخائر کو جاندار ثقافتی اور ماحولیاتی اثاثے سمجھتے ہوئے ان کی قدر و تحفظ اور پائیدار بنیادوں پر منظم کریں۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!