اتوار, فروری 1, 2026
پاکستانلاہور، بسنت کی تیاریوں کا آغاز، 2246 ٹریڈرز کو خرید و فروخت...

لاہور، بسنت کی تیاریوں کا آغاز، 2246 ٹریڈرز کو خرید و فروخت کی اجازت

صوبائی دارالحکومت لاہور میں بسنت کی تیاریوں کا آغاز ہوگیا ہے اور پتنگوں، گڈوں اور ڈور کی فروخت یکم فروری بروز اتوار سے شروع ہوگئی ہے۔

لاہور میں 2246ٹریڈرز کو خریدو فروخت کی اجازت مل گئی ہے اور یکم سے 8فروری تک پتنگوں، گڈوں اور ڈور کی خرید و فروخت کی اجازت دیدی گئی ہے، 8فروری کے بعد پتنگیں بنانے اور بیچنے پر مکمل پابندی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک 2504ٹریڈرز نے آن لائن اپلائی کیا ہے، 163رجسٹریشن ان پراگریس ہیں، 95ٹریڈرز کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں، 8 فروری تک رجسٹریشن کا عمل جاری رہے گا، مزید ٹریڈرز کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔

دوسری جانب لاہور میں پتنگیں اور ڈور کی خریداری کا آغاز ہوتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد نے اندرون شہر کا رخ کر لیا ہے، عوام کے شدید رش کے باعث دکانداروں نے ایک گھنٹہ بعد ہی دکانیں بند کر دیں، شہریوں کی جانب سے ڈور گڈی کی قیمت زیادہ ہونے کا شکوہ کیا جا رہا ہے، ایک تاوا گڈا 250 سے 300روپے تک، ڈیڑھ تاوا گڈا 450 سے 500روپے میں فروخت ہوا جبکہ ایک پیس کا پناہ 4ہزار اور ڈیڑھ پیس کا پناہ 6ہزار میں فروخت ہونے لگا۔

ادھر بسنت کے دوران پتنگ سازی یا فروخت کیلئے آن لائن پورٹل پر رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہورنے کہا ہے کہ لاہور میں 6، 7اور 8 فروری کو بسنت منانے کی مشروط اجازت دی گئی ہے،قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کو یقینی بنایا جائیگا، صرف رجسٹرڈ سیلز پوائنٹس پر ہی پتنگیں اور ڈور مل سکے گی۔

انکا کہنا تھا کہ صرف منظور شدہ سائز کی پتنگیں ہی بنائی جائیں گی، کاٹن کے 9دھاگوں والی ڈور کی اجازت ہوگی، چرخی، تیز مانجھا، نائلون یا پلاسٹک کی ڈور استعمال کرنا جرم ہوگا جبکہ موٹرسائیکل سوار لوہے کی حفاظتی راڈ لگائیں گے، اس سے قبل پتنگ بازی کے شوقین بڑی تعداد میں رات 12بجے سے پہلے اندرون لاہور موچی گیٹ پتنگیں اور ڈور خریدنے جا پہنچے مگر دکانداروں نے کہا کہ دکانیں صبح کھلیں گی، ضلعی انتظامیہ کے مطابق پتنگیں اور ڈور صرف رجسٹرڈ افراد ہی خرید سکیں گے۔

خیال رہے کہ لاہور میں بسنت صرف پتنگ بازی نہیں روزگار سے جڑی ایک صنعت تھی، 2007میں بسنت پر پابندی سے پتنگ سازی اور ڈور کے کاروبار سے وابستہ بیشتر خاندان معاشی مشکلات کا شکار رہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت ہر سال منانے کیلئے سب کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کریں۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!