بیجنگ (شِنہوا) چین کے مرکزی بینک کے گورنر نے کہا ہے کہ چین کو اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کے ذریعے غیر ملکی تجارت میں مسابقتی برتری حاصل کرنے کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی ایسی کوئی نیت ہے۔
پیپلز بینک آف چائنہ (پی بی او سی) کے گورنر پان گونگ شینگ نے یہ بات 14 ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں کہی۔
پان نے بتایا کہ پیپلز بینک آف چائنہ نے ہمیشہ شرح مبادلہ کے تعین میں مارکیٹ کی قوتوں کے فیصلہ کن کردار کو برقرار رکھا ہے، شرح مبادلہ میں لچک کو قائم رکھا ہے، مارکیٹ کی توقعات کے انتظام کو مضبوط کیا ہے اور یوآن کی شرح تبادلہ کو عمومی طور پر ایک موزوں اور متوازن سطح پر مستحکم رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زر مبادلہ کی شرح کو متاثر کرنے والے عوامل عالمی سطح پر پیچیدہ اور انتہائی غیر یقینی ہیں۔ پان کے مطابق چین کی زر مبادلہ مارکیٹ کے شرکاء پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ ہو چکے ہیں اور مارکیٹ نے مزید مضبوطی اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مزید اداروں کی جانب سے زر مبادلہ کی شرح کے خطرے سے بچاؤ کے آلات کے استعمال یا سرحد پار تجارت کو یوآن میں طے کرنے کے باعث چین کی درآمدات و برآمدات کی 60 فیصد سے زیادہ سرگرمیاں موثر طور پر زر مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ ہو چکی ہیں اور توقع ہے کہ یہ شرح اس سال مزید بڑھے گی۔




