واشنگٹن (شِنہوا) امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کو اسلحہ اور متعلقہ معاون خدمات کی ممکنہ غیر ملکی فوجی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس میں 12 ہزار فضائی بم بھی شامل ہیں۔
محکمے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس معاہدے کی مالیت تقریباً 15 کروڑ 18 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے بی ایل یو-110 اے/بی طرز کے عمومی مقصد کے ایک ہزار پاؤنڈ وزنی 12 ہزار بم خریدنے کی درخواست کی ہے۔
بیان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یہ تعین کیا ہے اور اس کی تفصیلی توجیہ پیش کی ہے کہ ہنگامی صورتحال کے تحت مذکورہ دفاعی سازوسامان اور خدمات کی اسرائیل کو فوری فروخت امریکہ کے قومی سلامتی مفادات کے لئے ضروری ہے۔ اس بنیاد پر آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کی دفعہ 36(بی) کے تحت کانگریس کے جائزے کی شرط کو معاف کر دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مجوزہ فروخت اسرائیل کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی، اس کے اندرونی دفاع کو مضبوط کرے گی اور خطے میں خطرات کے خلاف روک تھام کا کردار ادا کرے گی۔
پیکیج میں امریکی حکومت اور کنٹریکٹرز کی جانب سے انجینئرنگ، لاجسٹکس، تکنیکی معاونت کی خدمات اور پروگرام و لاجسٹکس سے متعلق دیگر عناصر بھی شامل ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے حملے شروع کئے تھے جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور سینکڑوں شہری شہید ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کی متعدد لہریں شروع کیں۔




