بیجنگ (شِنہوا) چین نے 2025 کے دوران اختراع میں تاریخی سنگ میل عبور کر لئے ہیں جس کے ساتھ تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کی سرمایہ کاری ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے اور انسان نما روبوٹس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بائیو ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر ین حہ جون نے جمعرات کو چین کی قومی مقننہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بتایا کہ 2025 میں چین کی تحقیق و ترقی پر مجموعی سرمایہ کاری 39.2 کھرب یوآن (تقریباً 569 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی ہے جو کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2.8 فیصد بنتی ہے۔ اس موقع پر ملک نے 2030 تک اپنی اختراع کی رفتار تیز کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔
ین نے بتایا کہ گزشتہ سال بنیادی تحقیق کے لئے فنڈنگ تقریباً 280 ارب یوآن تک پہنچ گئی، جو مجموعی آر اینڈ ڈی اخراجات کا 7.08 فیصد ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس شعبے میں فنڈنگ 7 فیصد کی حد سے تجاوز کر گئی ہے جو کہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔
انہوں نے چین کی تکنیکی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انسان نما روبوٹس کی شاندار کارکردگی، عالمی دوڑ میں سب سے آگے رہنے والے اوپن سورس اے آئی ماڈلز اور سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔




