اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں منتخب طریقہ کار اور دوہرے معیار کو لازماً سختی سے مسترد کرنا چاہیے ، تنازعات و غربت کو کم کرکے اور تہذیبوں کے تنوع کا احترام کرتے ہوئے دہشت گردی کے پنپنے کی بنیادوں کو ختم کرنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی پر عملدرآمد سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ پر بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوعشروں کے دوران اس حکمت عملی نے دہشت گردی کو روکنے اور اس کا مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی انسداد دہشت گردی صلاحیت سازی کو مستحکم کیا ہے اور بین الاقوامی انسداد دہشت گردی تعاون کو فروغ دیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ چین اس ضمن میں اقوام متحدہ کی طرف سے مرکزی اور مربوط کردار جاری رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹھوس اقدامات اٹھائے تاکہ ان کا ملک دوبارہ دہشت گرد تنظیموں کا مرکز نہ بن سکے۔
انہوں نے شام کی عبوری حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے اور دہشت گردوں کی طرف سے شام کی سرزمین استعمال ہونے سے روکے تاکہ دیگر ممالک کی سلامتی کو خطرات لاحق نہ ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے مجید بریگیڈ کی طرف کئے جانے والے مسلسل دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں سلامتی کونسل فوری طور پر ان دہشت گرد تنظیموں کو پابندیوں کی فہرست 1267 میں شامل کرے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افریقی ممالک اور افریقی یونین جیسی علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھائے تاکہ اس براعظم کی انسداد دہشت گردی کی صلاحیت کو مضبوط بنا نے میں مدد دی جا سکے۔




