برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ایک بڑی افطار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے بھی شرکت کی اور روزہ افطار کرنے کے بعد شرکا سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ میں مسلمانوں کے کردار کو سراہا۔
اپنے خطاب میں کیئر سٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ ایران پر کسی جارحانہ حملے میں شامل نہیں ہے، ماضی کی جنگوں سے سبق سیکھنا ضروری ہے، میں خود عراق جنگ کا مخالف رہا ہوں، ہم تاریخ سے سبق سیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ مشرق وسطی میں صرف اپنے شہریوں اور اتحادیوں کے دفاع کیلئے اقدامات کر رہا ہے، کسی جارحانہ پالیسی کا حصہ نہیں۔
کیئر سٹارمر نے اسلاموفوبیا کے خاتمے کا عزم دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ مساجد کی سکیورٹی بہتر بنانے کیلئے 40ملین پائونڈ مختص کئے جا رہے ہیں تاکہ عبادتگاہوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
تقریب میں مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔




