اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے لڑائی فوری طور پر روکنے کی اپنی اپیل دہرائی ہے اور تمام فریقوں سے کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون، بشمول انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں تاکہ عام شہری محفوظ رہ سکیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے اپنی روزانہ کی بریفنگ میں بتایا کہ اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق 26 فروری سے یکم مارچ کے دوران افغانستان میں کم از کم 123 عام شہریوں کو جانی نقصان پہنچا جن میں 34 افراد ہلاک اور 89 زخمی ہوئے۔
دوجارک نے کہا کہ سرحدی علاقے میں جنگ کی وجہ سے آمد و رفت پر پابندیوں نے متاثرہ علاقوں میں زندگی بچانے والی اور دیگر امداد پہنچانے کے لئے انسانی امداد کے اداروں اور ان کے شراکت داروں کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے، جس کے باعث پاکستان سے واپس آنے والے افغان خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہیں۔
ترجمان کے مطابق عالمی ادارہ خوراک نے متاثرہ علاقوں میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں جس سے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار افراد خوراک کی تقسیم کی معطلی سے متاثر ہوئے ہیں اور لڑائی سے متاثرہ کئی صوبے شدید قحط اور غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوجارک نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے مشن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ افغانستان کی مغربی سرحد سے وطن واپس آنے والے افغانوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور اس سے بہت ہی کم دستیاب انسانی امدادی سامان پر مزید دباؤ پڑے گا۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی حالیہ دنوں میں بڑھ گئی ہے جس میں فائرنگ کے کئی تبادلے ہو چکے ہیں۔




