تازہ ترینہانگ ژو میں جرمن چانسلر کے دورے نے کاروباری تعاون کے نئے...

ہانگ ژو میں جرمن چانسلر کے دورے نے کاروباری تعاون کے نئے امکانات روشن کر دئیے

جرمن چانسلر فریڈرِچ میرز  چین کے اپنے سرکاری دورے کے دوران جمعرات کی دوپہر مشرقی صوبہ ژی جیانگ کے شہر ہانگ ژو پہنچے۔

یونی ٹری روبوٹکس میں انہوں نے انسانی نما  روبوٹس کو مختلف کام کرتے دیکھا اور ان کی پھرتیلی حرکات سے متاثر ہوئے۔

میرز نے سیمنز ہائی وولٹیج سرکٹ بریکر کمپنی ہانگ ژو کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں چین میں جرمن سرمایہ کاری سے قائم اداروں کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

بیجنگ کے بعد ہانگ ژو اُن کے دو روزہ دورے کا دوسرا پڑاؤ تھا۔

گاڑی سازی، کیمیکل صنعت، ادویہ سازی، مشینری اور گردشی معیشت سمیت مختلف شعبوں کی تقریباً 30 بڑی جرمن کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار ان کے ہمراہ تھے۔

دورے کے دوران دس سے زیادہ تجارتی معاہدے کئے گئے جو عملی تعاون میں مزید گہرائی کا واضح اشارہ ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): رولینڈ بش، صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر، سیمنز اے جی

’’میرا خیال ہے کہ کامیابی یہ ہے کہ ہم نے دونوں ممالک کے برسوں پر محیط تعلقات کی قدر کی جو مستقبل میں آگے بڑھنے کے لئےمضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ جرمن کمپنیاں چین میں بڑی سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور فعال ہیں۔

جرمن کمپنیاں واقعی چین کے ماحول دوست صنعتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ دوسری طرف ہم چاہتے ہیں کہ چینی کمپنیاں بھی جرمنی کے ماحول دوست صنعتی نظام میں حصہ بن جائیں جو انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ٹوبیاس میئر، چیئرمین، ڈی ایچ ایل گروپ

چین کے ای کامرس پلیٹ فارمز کے ساتھ کام میں ڈی ایچ ایل دنیا کے کئی حصوں میں انہیں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ہم یہ کام یورپ میں کرتے ہیں جبکہ لاطینی امریکہ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بھی نمایاں موجودگی رکھتے ہیں۔ چینی ای-کامرس کمپنیاں بھی اپنا دائرہ بڑھا رہی ہیں۔ ہم چین میں یورپی مصنوعات کی مزید آن لائن فروخت کو فروغ دینے کے منتظر ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ اصل یورپی برانڈز چینی صارفین تک پہنچیں۔ یہ تعاون کا ایک اہم شعبہ بھی ہے۔

ہانگ ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں