سپریم کورٹ نے حقوق زوجیت کیس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ عدالت کسی خاتون کو حقوق زوجیت کی ادائیگی پر کیسے مجبور کر سکتی ہے؟، کیا خاتون کو شوہر کیساتھ رہنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟۔
پیر کو جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے حقوق زوجیت ادائیگی کیس میں عدالتی اختیار سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا عدالت خاتون کو زبردستی شوہر کے پاس بھجوا سکتی ہے اور حقوق زوجیت بحالی کے کیس میں عدالت کا اختیار کس حد تک ہے؟۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل نے کہا کہ نکاح ایک معاہدہ ہے ، جب تک برقرار ہے فریقین عملدرآمد کے پابند ہوتے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ خاتون اگر شوہر کے پاس نہ جانا چاہے تو عدالت اسے کیسے مجبور کر سکتی ہے؟ خاتون عدالتی فیصلہ نہ مانے تو کیا اسے گرفتار کیا جائے گا؟۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ضابطہ دیوانی کے مطابق تو خاتون کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے اور گرفتاری بھی ممکن ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ یہ شرعی طور پر درست ہوگا یا نہیں۔
جسٹس عرفان سعادت نے استفسار کیا کہ عدالت کسی خاتون کو حقوق زوجیت کی ادائیگی پر کیسے مجبور کر سکتی ہے؟ اور کیا خاتون کو شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں وضاحت کی کہ اگر خاتون شوہر کے پاس نہ رہنا چاہے تو خلع لے سکتی ہے اور اگر شوہر عدالتی فیصلہ نہ مانتے ہوئے خرچہ نہ دے تو گرفتار ہو سکتا ہے، قانون شوہر اور بیوی دونوں کے لیے برابر ہی لاگو ہوگا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ اگر خاتون ضد کرے کہ شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی اور خلع بھی نہیں لوں گی، یا شوہر بھی ضد کرے کہ نہ ساتھ رکھوں گا نہ طلاق دوں گا تو کیا ہوگا؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر اہلیہ یہ کہہ دے کہ شوہر کے ساتھ بھی نہیں رہنا، اپنے گھر میں رہنا ہے اور دوسری شادی کی اجازت بھی نہیں دینی تو کیا ہوگا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل نے عدالت کو بتایا کہ ایسی صورت حال میں ثالثی کونسل معاملہ حل کر سکتی ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد وفاقی و صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔




