جمعہ, فروری 27, 2026
پاکستانلاپتا افراد کیس، وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع و...

لاپتا افراد کیس، وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع و دیگر افسران کیخلاف توہین عدالت کارروائی سے روک دیا

وفاقی آئینی عدالت نے لاپتا افراد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع و دیگر افسران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی سے روک دیا۔

جمعرات کو وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاپتا افراد کیس میں حکام کیخلاف کارروائی کے فیصلے بارے اپیل پر سماعت کی۔

جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم کس بنیاد پر دیا گیا؟ کیا تعین ہوگیا تھا کہ لاپتا شخص سرکاری تحویل میں ہے؟۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے بتایا کہ عدالت کے پاس ایسا کوئی مواد نہیں تھا جس سے یہ تعین ہوتا، عدالت میں لاپتا شخص کے اہلخانہ نے سرکاری تحویل میں ہونے کا بیان حلفی دیا تھا، متعلقہ افسران نے جوابی حلف نامے بھی دیئے تھے کہ لاپتا شخص سرکاری تحویل میں نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت نے حبس بیجا کے کیس میں افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا، محکمانہ کارروائی نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی بھی جاری ہے، حبس بیجا کے کیس میں ہائیکورٹ اس نوعیت کا حکم نہیں دے سکتی، افسران کی انٹراکورٹ اپیل ہائی کورٹ نے ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کی۔

بعدازاں عدالت نے سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کیخلاف کارروائی پر حکم امتناع جاری کیا جبکہ سیکرٹری دفاع و دیگر افسران کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!