جمعہ, فروری 27, 2026
پاکستانچیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس، عدالتی انفراسٹرکچر میں اصلاحات، سولرائزیشن سمیت...

چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس، عدالتی انفراسٹرکچر میں اصلاحات، سولرائزیشن سمیت جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی کارکردگی و ادارہ جاتی وقار کیلئے بلا تعطل، پائیدار توانائی کی فراہمی ناگزیر قرار دیتے ہوئے عدالتی انفراسٹرکچر میں باقی ماندہ خلا کی نشاندہی کرکے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

جمعرات کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ملک بھر کے عدالتی انفراسٹرکچر میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں عدالتوں اور بار رومز کی سولرائزیشن سمیت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں جوڈیشل ڈویلپمنٹ فنڈ، انڈر ڈیولپڈ ریجنز ونڈوز اور گرانٹ اِن ایڈ کے تحت جاری منصوبوں پر جامع رپورٹ پیش کی گئی۔

جاری اعلامئے کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 56 بار رومز کی سولرائزیشن مکمل کرلی گئی ہے جبکہ مزید 47 بار رومز پر کام جاری ہے، صوبے میں 62 بار رومز اور عدالتوں میں ای لائبریریز قائم کی جاچکی ہیں اور ان کی توسیع کا عمل بھی جاری ہے، پنجاب کے 47 جوڈیشل کمپلیکسز میں واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کئے گئے ہیں جبکہ 32ڈے کیئر سینٹرز اور 74خواتین سہولت مراکز بھی قائم کئے جاچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں 65بار رومز اور 92عدالتوں کی سولرائزیشن جاری ہے جبکہ 37بار رومز اور 61عدالتوں میں ای لائبریریز کے قیام پر کام ہورہا ہے، سندھ کے 28اضلاع اور 19تعلقہ سطح پر خواتین سہولت مراکز کی ترقی کا عمل بھی جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 51بار رومز اور 39عدالتوں کی سولرائزیشن مکمل کرلی گئی ہے جبکہ 66بار رومز اور 62عدالتوں میں ای لائبریریز قائم کردی گئی ہیں اسی طرح بلوچستان کے تمام 35سیشن ڈویژنز میں سولرائزیشن کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ 35سیشن ڈویژنز میں بینچ اور بار کیلئے ای لائبریریز بھی قائم کردی گئی ہیں۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ عدالتی انفراسٹرکچر میں باقی ماندہ خلا کی نشاندہی کرکے انہیں جلد از جلد مکمل کیا جائے، عدالتی کارکردگی اور ادارہ جاتی وقار کیلئے بلا تعطل اور پائیدار توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!