جنیوا (شِنہوا) عالمی کاروباری کونسل برائے پائیدار ترقی (ڈبلیو بی سی ایس ڈی) کے صدر اور سی ای او پیٹر بیکر کا کہنا ہے کہ چین پائیدار ترقی کے میدان میں قیادت کر رہا ہے اور کئی مارکیٹوں میں صف اول کے حل فراہم کر رہا ہے۔
شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں بیکر نے اس امید کا اظہار کیا کہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے چین کے اختراعی حل سب کے لئے دستیاب ہو سکتے ہیں۔
ڈبلیو بی سی ایس ڈی کا قیام 1995 میں عمل میں آیا تھا اور 200 سے زائد بین الاقوامی کمپنیاں اس کی رکن ہیں۔
بیکر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان جیسے انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز صرف مشترکہ کوششوں سے ہی حل کئے جا سکتے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ اس سلسلے میں کاروباری ادارے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ کاروبار ہی عالمی سپلائی چینز کو چلاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے کاروباری اداروں کو نئی ٹیکنالوجیز اور نئے ماڈلز نافذ کرنا ہوں گے اور پالیسی سازوں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
بیکر کا ماننا ہے کہ پالیسی سازوں اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کے حوالے سے چین نے ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔
بیکر نے کہا کہ چینی حکومت اور صنعتی قوتوں کے درمیان اشتراک عمل نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ چین شمسی پینلز، ونڈ فارمز، الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹریوں سمیت کئی مارکیٹوں میں صف اول کے حل فراہم کر رہا ہے۔




