پیر, فروری 23, 2026
انٹرٹینمنٹرمضان سے پہلے ساڑھی، اب سر پر دوپٹہ، جویریہ سعود تنقید ...

رمضان سے پہلے ساڑھی، اب سر پر دوپٹہ، جویریہ سعود تنقید کی زد میں

معروف اداکارہ، میزبان اور پروڈیوسر جویریہ سعود اس سال بھی رمضان ٹرانسمیشن کا حصہ ہیں تاہم حالیہ دنوں انکے لباس سے متعلق تنازع نے توجہ حاصل کر لی، اداکارہ نے حال ہی میں اپنے ملبوسات کے برانڈ کو ایک بین الاقوامی فیشن شو میں پیش کیا جہاں معروف اداکارہ ثنا نواز شوسٹاپر کے طور پر جلوہ گر ہوئیں، جویریہ سعود نے اپنی بیٹی کے ہمراہ ریمپ واک بھی کی، اس موقع پر انہوں نے سیاہ رنگ کی ساڑھی زیب تن کی تھی جس کا بلاز نسبتاً مختصر تھا اور اس میں جسم نمایاں ہو رہا تھا۔

سوشل میڈیا پر انکے لباس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور صارفین نے اسے نامناسب قرار دیا، یہی معاملہ اسوقت دوبارہ زیر بحث آیا جب رمضان ٹرانسمیشن میں ایک لائیو کال کے دوران ایک کالر نے انکے لباس پر سوال اٹھایا اور جویریہ سعود سے پوچھا کہ رمضان سے پہلے وہ بیرون ملک ایک فیشن شو میں ساڑھی پہنتی تھیں جبکہ اب رمضان ٹرانسمیشن کے دوران سر پر دوپٹہ اوڑھ کر دینی گفتگو کر رہی ہیں، اگر پہلے ایسا لباس پہنا گیا تو اب اچانک مذہبی انداز کیوں اپنایا جا رہا ہے جس کے بعد کالر نے مولانا آزاد جمیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میری درخواست ہے کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ اب جویریہ ایسا نہ کریں۔

جویریہ سعود نے سوال کے جواب میں وضاحت دی کہ مذکورہ فیشن شو برطانیہ میں ہوا تھا اور وہاں شدید سردی تھی، ساڑھی کیساتھ مکمل باڈی سوٹ اور تھرمل لباس بھی پہنا ہوا تھا تاکہ موسم کی شدت سے محفوظ رہا جا سکے، پروگرام کے دوران جویریہ نے اپنے قمیض کی آستین سے باڈی سوٹ کی آستین بھی دکھائی اور کہا کہ ہر لباس کیساتھ یہ پہنا ضروری ہوتا ہے اور اس موقع پر بھی پہنا ہوا تھا، اداکارہ کے اس موقف پر بھی سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل دیکھنے میں آئے جہاں کچھ افراد نے انکی وضاحت کو سراہا جبکہ دیگر نے اپنی تنقید برقرار رکھی۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!