تیانجن (شِنہوا) چینی سائنس دانوں نے لیتھیئم آئن بیٹری کی ایک نئی نامیاتی قسم تیار کی ہے جو زیادہ محفوظ اور لچکدار ہے اور کارکردگی کے دیرینہ مسائل کو حل کرتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی تیانجن یونیورسٹی اور ساؤتھ چائنہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر تیار کی اور یہ تحقیق بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر میں بیجنگ کے وقت کے مطابق جمعرات کو آن لائن شائع ہوئی۔
تیانجن یونیورسٹی کے پروفیسر شو یون ہوا کی قیادت میں ٹیم نے ایک نامیاتی کیتھوڈ مواد تیار کیا جو لیتھیئم آئن بیٹریوں کی توانائی کی کثافت اور چارجنگ کی رفتار میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ یہ پیش رفت نامیاتی بیٹریوں کے عملی استعمال میں درپیش بنیادی رکاوٹیں دور کرتی ہے۔
اس وقت زیادہ تر روایتی لیتھیئم آئن بیٹریاں کوبالٹ اور نکل جیسے غیر نامیاتی کیتھوڈ مواد پر انحصار کرتی ہیں۔ تاہم ان مواد کے حوالے سے وسائل کی کمی، محدود میکانی لچک اور سخت حالات میں کارکردگی میں کمی جیسے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ان مسائل کے پیش نظر محققین نے نامیاتی الیکٹروڈ مواد کی جانب توجہ دی ہے جو وافر، ماحول دوست اور ساخت کے لحاظ سے موافقت پذیر ہوتے ہیں۔ اصل چیلنج زیادہ توانائی کی کثافت کے ساتھ تیز رفتار چارجنگ کو یقینی بنانا تھا۔
اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ٹیم نے ایک ایسا نامیاتی کیتھوڈ تیار کیا جس میں اعلیٰ الیکٹرانک کنڈکٹیویٹی، لیتھیئم آئن کی تیز تر نقل و حرکت اور زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
نئے کیتھوڈ کے استعمال سے ٹیم نے ایک پاؤچ بیٹری تیار کی جس کی توانائی کی کثافت 250 واٹ آور فی کلوگرام سے زائد ہے جو روایتی لیتھیئم آئرن فاسفیٹ بیٹریوں سے بہتر کارکردگی دکھاتی ہے۔ نئی بیٹری نے غیر معمولی حرارتی استحکام بھی ظاہر کیا اور منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ سے 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں مستحکم طور پر کام کیا۔
اس کے علاوہ بیٹری نے مضبوط میکانی لچک اور بہتر حفاظتی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تجربات میں نامیاتی کیتھوڈ نے موڑنے یا دباؤ ڈالنے کے بعد بھی اپنی ساخت کی سالمیت اور مکمل گنجائش برقرار رکھی۔




