جمعہ, فروری 20, 2026
تازہ ترینچینی سائنسدانوں کی آپٹیکل کمیونیکیشن، 6 جی ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابی

چینی سائنسدانوں کی آپٹیکل کمیونیکیشن، 6 جی ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابی

 بیجنگ (شِنہوا) ایک چینی تحقیقی ٹیم نے آپٹیکل فائبر اور وائرلیس نیٹ ورکس کو باہم ملانے والا ایک مربوط مواصلاتی نظام تیار کیا ہے جس نے ڈیٹا کی ترسیل کی رفتار کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

جریدے ‘نیچر’  میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت  کے ڈیٹا سنٹرز میں کمپیوٹنگ پاور کی بڑھتی ہوئی طلب اور جدید دور کے 6 جی وائرلیس نیٹ ورکس کی ترقی کے لئے مختلف حالات میں تیز رفتار اور کم ترین تاخیرکے ساتھ سگنل کی ترسیل کی ضرورت ہے۔

تاہم آپٹیکل فائبر اور وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم کے سگنل نظام اور ہارڈ ویئر میں فرق کی وجہ سے ایک ہی ڈھانچے پر دونوں نظاموں کے درمیان تیز رفتار اور ہم آہنگ اینڈ ٹو اینڈ ترسیل حاصل کرنا مشکل تھا جو کہ ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کے لئے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

پیکنگ یونیورسٹی، پینگ چھنگ لیبارٹری، شنگھائی ٹیک یونیورسٹی اور نیشنل آپٹو الیکٹرانکس انوویشن سنٹر پر مشتمل تحقیقی ٹیم نے ایک ایسا مشترکہ مواصلاتی نظام تیار کیا ہے جو آپٹیکل فائبر پر 512 جی بی پی ایس اور وائرلیس پر 400 جی بی پی ایس کی سنگل چینل سگنل ٹرانسمیشن حاصل کرتا ہے۔

پیکنگ یونیورسٹی کے وانگ شنگ جون، جو اس مقالے کے مرکزی مصنفین میں سے ایک ہیں، کے مطابق یہ نیا نظام آپٹیکل فائبر اور وائرلیس نیٹ ورکس دونوں کے ذریعے ‘ڈوئل موڈ’ ٹرانسمیشن کو سپورٹ کرتا ہے۔ یہ نہ صرف بینڈوتھ کی حدود اور شور کے جمع ہونے سے بچاتا ہے بلکہ مداخلت کے خلاف مزاحمت  کی صلاحیت کو بھی بڑھاتا ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!