بیجنگ (شِنہوا) دریائے یانگسی کے طاس میں ماہی گیری پر لگائی گئی 10 سالہ جامع پابندی مچھلیوں کے ذخائر میں 70 سال سے جاری انحطاط کو روکنے میں کامیاب رہی ہے اور اس سے ابتدائی ماحولیاتی بحالی کا آغاز ہو گیا ہے۔
جریدے ‘سائنس’ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دریائے یانگسی میں حیاتیاتی تنوع کو بہتر بنانے کے لئے چین نے جنوری 2020 میں اس کے طاس کے 332 حفاظتی علاقوں میں مچھلی پکڑنے پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ بعد ازاں ان حفاظتی اقدامات میں توسیع کرتے ہوئے دریا کے اہم دھاروں اور بڑی شاخوں پر 10 سالہ پابندی نافذ کر دی گئی جس کا اطلاق یکم جنوری 2021 سے ہوا۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈرو بیالوجی کے محققین کی ایک ٹیم نے ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کے تعاون سے 2018 سے 2023 تک جمع کئے گئے منظم مانیٹرنگ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے اس پابندی کے ابتدائی اثرات کا جائزہ لیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، جن میں مچھلیوں کے بائیو ماس، ان کی جسمانی حالت، اقسام کا تنوع اور خطرے سے دوچار نسلوں کی بحالی کے ابتدائی آثار شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق خاص طور پر بڑے جسم والی مچھلیوں کے بائیو ماس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ بڑی اور چھوٹی دونوں اقسام کی مچھلیوں کی جسمانی حالت کے عوامل میں بہتری آئی ہے۔




