بدھ, فروری 18, 2026
پاکستان’’اتحاد، شکر گزاری اور تجدید" نئے چینی سال پر ایک پاکستانی ماہر...

’’اتحاد، شکر گزاری اور تجدید” نئے چینی سال پر ایک پاکستانی ماہر کا بین الثقافتی نکتہ نظر

جنان (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے دارالحکومت جنان میں رہائش پذیر اور کا م کرنے والے ایک پاکستانی ماہر معشوق خان نے کہا ہے کہ میں چین میں متعدد نئے چینی سال گزار چکا ہوں اور ہر سال چینی ثقافت اور اس کی سماجی اہمیت کے متعلق میری قدر دانی مزید گہری ہوئی ہے۔ شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک تعطیل نہیں بلکہ ایک گہرا ثقافتی رسم و رواج ہے جس کی مرکزیت خاندان کا ملاپ، شکر گزاری اور تجدید ہے۔

معشوق خان نے تین سالہ پوسٹ ڈاکٹرول تربیت بیجنگ میں سنگہوا یونیورسٹی میں مکمل کی، جو تجزیاتی کیمیا، بالخصوص فنکشنل میٹریلز اور مائیکروفلوئیڈک ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے سرطان زدہ اور عام خلیوں کے درمیان فرق کا تجزیہ کرنے پر مرکوز تھی۔ 2021 میں انہوں نے چھی لو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (شان ڈونگ اکیڈمی آف سائنسز) کے شان ڈونگ تجزیاتی اور تجرباتی سنٹر میں شمولیت اختیار کی، جہاں وہ بائیو سینسر اور ادویات کی جائزہ ٹیم کے رکن بن گئے۔

انہوں نے جنان کو اپنے خاندان کے ساتھ اپنا گھر بنا لیا ہے۔ چین میں کئی سال سے مقیم معشوق نے ملک کے بہت سے حصوں کا دورہ کیا ہے۔ جولائی 2025 میں انہوں  نےجنان بین الاقوامی بہار میلے میں شرکت کی، جہاں وہ میلے کے 72 مشعل بردار افراد میں سے ایک تھے۔ گزشتہ سال ستمبر میں انہوں نے چین-ایس سی او (شنگھائی تعاون تنظیم) کے تکنیکی اختراعی تعاون مرکز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی۔ ان تجربات نے نہ صرف چینی معاشرے کے ساتھ ان کے جذباتی تعلق کو مضبوط کیا ہے بلکہ انہیں چین کی معاشی اور سماجی ترقی  کی رونق کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا بھی موقع فراہم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال بھی میں نیا چینی سال چین میں ہی گزاروں گا۔ ہم نے منصوبہ بنایا ہے کہ ہم یہ سال نسبتاً پرسکون اور خاندانی مرکزیت کے ساتھ منائیں گے، جس میں گھر میں روایتی کھانے تیار کرنا، بہار میلہ گالا کو دیکھنا اور مقامی کمیونٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شامل ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے انہوں نےتہوار کی گہری تفہیم حاصل کی ہے۔ ایک مصروف تعلیمی سال کے بعد تہوار آرام، غور وفکر اور خاندانی ملاپ کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

نئے چینی سال کی روایات کے حوالے سے معشوق بہار میلے کےشعر چسپاں کرنے، خاندانی ملاپ کے رات کے کھانے، سرخ لفافے دینے اور رشتے داروں و دوستوں سے  ملنے وغیرہ کا شوق رکھتے ہیں۔ ان کے نکتہ نظر کے مطابق یہ روایات خاندان کے احترام، خوشحالی کی امید اور سماجی ہم آہنگی کی بنیادی اقدار کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ روایات ایسی سماجی علامات کے طور پر کام کرتی ہیں جو ذاتی روابط کو مضبوط بناتی ہیں اور اقدار کو نسل در نسل منتقل کرتی ہیں، جو تیزی سے جدید ہوتے ہوئے معاشرے میں خاص طور پر اہم ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران تکنیکی ترقی اور چین بھر میں نئے ثقافتی اور سیاحتی تجربات متعارف ہونے کے باعث لوگوں کے جشن منانے کے انداز میں خاموش تبدیلی آئی ہے۔ الیکٹرانک سرخ لفافوں، آن لائن مبارکبادیں اور ثقافتی تجربات نئی نسل میں زیادہ مقبول ہو گئے ہیں۔ معشوق کا ماننا ہے کہ یہ نئے سال  کی تقریبات کے تنوع اور جدت کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، جیسے کہ آن لائن سرخ لفافوں اور آن لائن مبارکبادوں نے روایتی رسومات کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔یہ تبدیلیاں نہ صرف بلند ہوتے معیار زندگی کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ روایت کی زیادہ لچکدار تشریح کو بھی ظاہر کرتی ہیں، جو یہ دکھاتی ہیں کہ یہ تہوار اپنی ثقافتی اساس کو محفوظ رکھتے ہوئے مسلسل ارتقا پذیر ہے۔

معشوق خان لیبارٹری میں اپنے چینی ساتھیوں کے ہمراہ کا م کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

چین میں نئے قمری سال کی آمد ایک نئے سال کے آغاز کی علامت ہے۔ معشوق اپنی تحقیق میں اگلے اقدامات کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری موجودہ توجہ نئے بائیوسینسرز کی تیاری پر ہے، جنہیں ماحولیاتی نگرانی، طبی تجزیے اور حیاتیاتی تحقیق جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ لیبارٹری تحقیق کو حقیقت میں تبدیل کروں اور عالمی سائنسی ترقی میں اپنا حصہ ڈالوں۔

"شان ڈونگ تجزیاتی اور تجرباتی سنٹر، جہاں معشوق کام کرتے ہیں، 1978 میں قائم ہوا اور یہ ایک عوامی تحقیقی ادارہ ہے جو بنیادی اور اطلاقی تحقیق کے لئے وقف ہے۔ یہ مرکز مختلف صنعتوں میں کلیدی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جن میں صحت کی دیکھ بھال، ماحولیاتی نظام، اعلیٰ درجے کا ساز و سامان اور کیمیکلز شامل ہیں۔

معشوق کے کام نے نہ صرف مرکز کی تحقیقی پیداوار میں حصہ ڈالا ہے بلکہ اس کے بین الاقوامی اثر و رسوخ کو بھی وسعت دی ہے، بائیوسینسر اور دواسازی تجزیہ ٹیم کے رکن وانگ ژونگ شنگ نے کہا کہ میں نے نوٹ کیا ہے کہ بطور غیر ملکی ماہر معشوق نے ٹیم کی تحقیقی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا ہے اور ایک زیادہ کھلا، جامع اور قابل اعتماد ماحول تشکیل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین میں کام کرنے والے ایک پاکستانی محقق کے طور پر مجھے فخر ہے کہ میں سائنس کے ذریعے نہ صرف چینی سائنسی کمیونٹی بلکہ عالمی تعاون میں بھی اپنا حصہ ڈال رہا ہوں۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!