جنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا ہے جس کے بعد ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کے بنیادی اصولوں پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے تاہم کئی اہم معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد کہا کہ معاہدے کی راہ ہموار ہونا شروع ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ بات چیت ہوئی ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم نکات پر سمجھ بوجھ پیدا ہو گئی ہے لیکن کچھ اختلافی امور پر مزید بات چیت درکار ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا مذاکرات کا دائرہ کار ایران کے میزائل پروگرام اور دیگر غیر جوہری معاملات تک بڑھانا چاہتا تھا تاہم ایران نے واضح کیا کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے عائد اقتصادی پابندیاں ہٹانے پر بات چیت کریگا اور یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر صفر کرنے کا مطالبہ قبول نہیں کریگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات مشرقِ وسطی کی صورتحال اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اور ممکنہ تصادم کے خدشات موجود ہیں۔




