اسلام آباد ہائیکورٹ نے این ایچ اے کو ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کا ریکارڈ 15روز میں جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ لوگ منافع دیکھ کر تعیناتیاں و فیصلے کر رہے ہیں، پہلے سی ڈی اے حکومت کھا گیا اب این ایچ اے وہی کام کر رہا ہے، ہمارے حکم پر عملدرآمد کرنے والے چیئرمین کو ہٹا دیا گیا، یہ حرکتیں کرنیوالوں کو بتائیں ہم ایکشن لیں گے۔
پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں بینچ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن افسران کی تعیناتیوں کیخلاف کیس پر سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے وکیل علی نواز کھرل اور این ایچ اے کی جانب سے وکیل سردار تیمور اسلم پیش ہوئے۔
عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے این ایچ اے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ستمبر میں ہم نے حکم جاری کیا اس پر اب تک کیوں عملدرآمد نہیں ہوا، پسند ناپسند اور اقربا پروری ہوتی جا رہی ہے، من پسند تعیناتیاں ہو رہی ہیں، لوگ منافع دیکھ کر تعیناتیاں اور فیصلے کر رہے ہیں، پہلے سی ڈی اے حکومت کھا گیا اب این ایچ اے وہی کام کر رہا ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے حکم پر عمل درآمد کرنے والے چیئرمین کو ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ عملدرآمد کر رہا تھا، ہمارا حکم اس افسر کو لگانے والوں کو ناگوار گزرا اور اسے ہٹا کر نیا افسر لگا دیا گیا، اس کو جا کر بتا دیں جس نے یہ حرکتیں کی ہیں ہم ایکشن لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اداروں میں ایسے ہی کرپشن بڑھتی ہے، ڈیپارٹمنٹ میں ایسے لوگ ہی کھڑے کر دیئے جاتے ہیں جو کام نہیں ہونے دیتے، ایسے ادارے کرپشن کا گھڑ بن چکے ہیں۔
عدالت نے این ایچ اے کو افسران کی تعیناتی کا پلان حکومت کے سامنے رکھنے کی ہدایت اور ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کا ریکارڈ 15روز میں عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔




