پیر, فروری 16, 2026
تازہ ترینچینی شناخت، فینگ کائی پنگ 30 برسوں سے شَنشی کے 600 سالہ...

چینی شناخت، فینگ کائی پنگ 30 برسوں سے شَنشی کے 600 سالہ تاریخی مندر کے محافظ ہیں

چین کے شمالی صوبے شَنشی کے تائی ہانگ پہاڑی سلسلے کی گہرائی میں تقریباً پندرہ سو میٹر کی بلندی پر چٹانوں کے درمیان واقع  جِن ڈینگ مندر  ایک اہم قومی تاریخی اور ثقافتی مقام ہے۔

یہ منگ شاہی خاندان کے دور  (1368 تا 1644) کا تقریباً 600 سال پرانا مندر ہے جو 500 سے زائد بدھ مت کے مجسموں اور پتھر سے بنے درجنوں منار نما ڈھانچوں کی وجہ سے مشہور ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): فینگ کائی پنگ، نگران، جِن ڈینگ مندر

"میرا نام فینگ کائی پنگ ہے۔ میں تقریباً  تیس برسوں سے جِن ڈینگ مندر کی حفاظت کر رہا ہوں۔”

برسوں پہلے فینگ اکیلے محافظ نہیں تھے۔ تب ڈاکوؤں کے 4  گروہ قیمتی مجسمے چرانے کے لئے مندر پر حملہ آور ہوئے۔ اس وقت فینگ کے ساتھی محافظ یہ سوچ کر  کہ اب بس بہت ہو گیا وہ وہاں سے فرار ہو گئے۔ 1990 کی دہائی میں دور دراز پہاڑی علاقوں میں ثقافتی آثار کی چوری کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): فینگ کائی پنگ، نگران، جِن ڈینگ مندر

"میں نے ہر طرح کے ہنگامی حالات کا سامنا کیا ہے۔ مجھے باندھا گیا، منہ پر ٹیپ لگا دی گئی اور یہاں تک کہ ڈاکوؤں نے ثقافتی آثار چرا نے کی کوشش میں مجھے نشہ آور دوا بھی دی۔”

مندر کے 30 سے زائد ہالز میں سب سے منفرد "شُوئی لو” ہے جو قدرتی طور پر چھت سے ٹپکنے والے پانی سے بنے ایک تالاب کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔ فینگ اپنے لئے پانی اسی تالاب سے لیتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): فینگ کائی پنگ، نگران، جِن ڈینگ مندر

"جِن ڈینگ مندر کے ارد گرد  پانی کا کوئی اور ذریعہ موجود نہیں۔ میں تقریباً 30 سال سے اسی پانی کو پیتا آ رہا ہوں۔”

سال 2007 تک مندر میں بجلی بھی دستیاب نہیں تھی۔ وہ رات کو موم بتی جلا کر گزارا کرتے اور  تفریح کے لئے صرف ریڈیو ہی پر انحصار کرتے تھے۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): فینگ کائی پنگ، نگران، جِن ڈینگ مندر

"ماضی میں جب آدھی رات تک بھی مجھے نیند نہ آتی تو میں ریڈیو سن لیتا تھا۔”

سال 2007 میں مقامی حکومت کی جانب سے مندر تک پہنچنے کے لئے ایک تنگ سڑک کی تعمیر کے بعد سیاحوں کی یہاں آمد شروع ہوئی۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): فینگ کائی پنگ، نگران، جِن ڈینگ مندر

"دن کے وقت میرا کام سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور آگ سے بچاؤ کا انتظام کرنا ہے۔ رات کے وقت میں زیادہ تر مندر کا  گشت کرتا ہوں تاکہ دیکھ سکوں کہ کسی نے ثقافتی آثار کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا۔

 یہاں واقعی بہت تنہائی  اور اکیلا پن ہے۔ سیاح دوپہر سے پہلے ہی یہاں سے واپس روانہ ہو جاتے ہیں۔ پھر میں اکیلا رہ جاتا  ہوں۔ جب میں باہر جاؤں تو صرف میں ہی ہوں۔  جب واپس آتا ہوں تو اس وقت بھی یہاں میرے سوا کوئی اور نہیں ہوتا۔ نیچے دیکھیں تو ہو سکتا ہے کہ  کہیں بہت ہی  دور لوگ دکھائی دیں لیکن  اوپر کی جانب دیکھیں تو صرف پہاڑ  ہی ہیں۔”

کئی برسوں کے دوران فینگ نے جِن ڈینگ مندر میں رہائشی و حفاظتی سہولیات میں بہتری  اور مضبوطی دیکھی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 6 (چینی): فینگ کائی پنگ، نگران، جِن ڈینگ مندر

"آج کل  بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئی ہیں۔ عملے کی تعداد، رہائشی حالات اور ہر پہلو میں معیار بہتر ہوا ہے۔”

اگرچہ بہار کا تہوار قریب آ رہا ہے لیکن فینگ کے لیے یہ معمول کا  ایک دن ہو گا۔ وہ یہیں رہیں گے اور اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔

ساؤنڈ بائٹ 7 (چینی): فینگ کائی پنگ، نگران، جِن ڈینگ مندر

"ثقافتی آثار کی حفاظت ایک ایسا کام ہے جس میں چھٹیاں نہیں ہوتیں۔ چاہے بہار کا تہوار ہو یا کوئی اور تہوار، مندر کو بغیر نگرانی کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔

بہار کے تہوار کے دوران میری اہلیہ میرے ساتھ رہنے کے لئے  آتی تھیں۔ اگر وہ نہ آئیں تو بچے آ جاتے ہیں۔ جتنا عرصہ میں یہاں ہوں، یہ ذمہ داری میرے کندھوں پر ہے اور میں اسے نبھاؤں گا۔

مشکلات کبھی کبھار  ہی پیش آتی ہیں، یہ ہر روز نہیں ہوتیں۔ اگر آپ نے آج کا دن گزار لیا تو کل کا دن بہتر ہوگا۔”

تائی یوآن سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

چین کے صوبہ شَنشی کا 600 سالہ تاریخی مندر آج بھی محفوظ ہے

فینگ کائی پنگ 30 برس سے جِن ڈینگ مندر کی حفاظت کر رہے ہیں

500 سے زائد بدھ مت کے مجسمے اور پتھریلے ڈھانچےمندر کی پہچان ہیں

مندر میں واقع "شُوئی لو” ہال تالاب کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے

2007 تک بجلی نہ ہونے کی وجہ سے رات کو موم بتی پر گزارا کیا جاتا

اب عملے کی تعداد، رہائشی حالات اور  معیار میں بہتری آ رہی ہے

ڈاکوؤں کے خوف سے کئی ساتھی برسوں  پہلے فینگ کو تنہا چھوڑ گئے تھے

فینگ نے ہر طرح کے حالات کا حوصلے اور بہادری سے سامنا کیا

بہار میلے پر بھی فینگ کو چھٹی نہیں، حسب معمول ڈیوٹی دیں گے

فینگ کے مطابق مشکلات ہمیشہ نہیں رہیں گی

آپ نے آج کا دن گزار لیا تو کل کا دن یقیناً بہتر ہوگا

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!