پیر, فروری 16, 2026
تازہ ترینروم میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے زیراہتمام نئے...

روم میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے زیراہتمام نئے چینی سال  کی تقریب

روم میں اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے ایف اے او نے بدھ کے روز اپنے ہیڈکوارٹرز میں نئے چینی سال کی مناسبت سے تقریب منعقد کی جس میں ادارے کے ڈائریکٹر جنرل چُو ڈونگ یو نےعملے پر زور دیا کہ وہ گھوڑے کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اہداف کے حصول کی رفتار تیز کریں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چُو ڈونگ یو نے کہا کہ گھوڑے کے سال کا پیغام ایف اے او کے مشترکہ مشن سے ہم آہنگ ہے۔

دنیا کو درپیش متعدد چیلنجز کے تناظر میں چُو ڈونگ یو کا کہنا تھا  کہ ایف اے او کو گھوڑے کی طاقت، ثابت قدمی اور برداشت کی علامت سے حوصلہ لینا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح گھوڑا رفتار اور آگے بڑھنے کی علامت ہے اسی طرح ایف اے او کو بھی آگے بڑھنا ہوگا، رکاوٹوں پر قابو پانا ہوگا اور اپنی رفتار تیز کرنی ہوگی۔

چُو نے کہا کہ آئیے ہم گھوڑے کے جذبے سے سبق سیکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاہے بوجھ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، وہ مسلسل  آگے ہی بڑھتا رہتا ہے۔

تقریب میں روایتی چینی ثقافتی عناصر پیش کئے گئےجن میں مارشل آرٹس کے مظاہرے، گوزینگ موسیقی اور تہوار کے دیگر رسوم و رواج شامل تھے۔ شرکاء نے آنے والے سال کے لئے نیک تمنائیں بھی لکھیں۔

تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا ایک ویڈیو پیغام بھی شامل تھا۔ اس پیغام میں انہوں نے نئے قمری سال کی مبارکباد پیش کی اور کثیرالجہتی تعاون کے لئے چین کے عزم کو سراہا۔

شِنہوا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ایف اے او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل الگزینڈر لِونگسٹن جونز نے کہا کہ 194 ارکان پر مشتمل یہ ادارہ ثقافتی تنوع کو اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے او میں چین کو ایک ’’خاص مقام‘‘ حاصل ہے اور دونوں فریق موسمیاتی امور، غذائی تحفظ، ٹیکنالوجی، زرعی پیداوار اور جدید تحقیق کے شعبوں میں قریبی تعاون کر رہے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): الیگزینڈر لیونگسٹن جونز، اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل، ایف اے او

"ہم چین میں دونوں طریقوں سے  کام کرتے ہیں۔ چین مالی وسائل فراہم کرتا ہے اور دنیا کے جنوبی خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون بھی کرتا ہے۔ لیکن ہم عین اس وقت چین کے اندر بھی کئی منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ اس لیے یہ تعلق دو طرفہ ہے۔ ہم موسمیاتی امور، غذائی تحفظ، ٹیکنالوجی اور زرعی پیداوار پر کام کرتے ہیں۔ جدت کا شعبہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہم چین کے زرعی ترقیاتی سائنسی شعبوں کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔ اس لئے یہ تعاون بہت وسیع ہے۔”

روم سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!