جمعرات, فروری 12, 2026
پاکستانعمران خان کو جیل میں دستیاب سہولتوں بارے رپورٹ سپریم کورٹ میں...

عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولتوں بارے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

بانی پی ٹی آئی کو جیل میں دستیاب سہولتوں سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی سلمان صفدر کی رپورٹ میں آنکھ کے فوری معائنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انکا طبی معائنہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کتابیں فراہم کی جائیں، حفاظت اور سکیورٹی کے حوالے سے درخواست گزار نے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ انکے زیر استعمال کمپاؤنڈ میں تقریباً 10سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں اور ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے تک ہے لیکن کمرے یا سیل کے اندر کوئی کیمرہ نہیں ہے، کمپانڈ کے باہر اور اطراف کے تمام علاقے مسلسل نگرانی میں ہیں۔

بانی پی ٹی آئی صبح تقریباً 9:45 بجے ناشتہ کرتے ہیں، 11:30 بجے سے ایک گھنٹے تک قرآن مجید کی تلاوت اور پھر محدود ورزش کے آلات استعمال کرتے ہیں، دوپہر 1:15 بجے غسل کے بعد انہیں کمپانڈ کے چہل قدمی کے شیڈ تک رسائی دی جاتی ہے جہاں وہ بیٹھ سکتے ہیں یا چہل قدمی کر سکتے ہیں، دوپہر کا کھانا 3:30 سے 4 بجے کے درمیان ہوتا ہے، شام 5 بجے انہیں دوبارہ مختصر چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے، 5:30 بجے سے اگلی صبح 10بجے تک وہ اپنے سیل میں رہتے ہیں، بلاک اڈیالا جیل کے اندر تقریباً 5 منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے، احاطہ مخصوص اور اضافی حفاظتی اقدامات کے تحت بنایا گیا ہے، بیرونی دیواریں 12فٹ بلند ہیں اور خاردار تار نصب ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے مطابق احاطے میں 5 وارڈرز اور ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ 24 گھنٹے تعینات ہیں، احاطے کے اندر 12 ضرب 30 فٹ کا لان موجود ہے جہاں بانی پی ٹی آئی دھوپ، تازہ ہوا، ورزش اور چہل قدمی کیلئے جاتے ہیں، سیل بلاک میں 4 سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔

سلمان صفدر نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ مجھے سیل بلاک کے کچن میں لے جایا گیا ،کچن میں برتن، کراکری اور کھانا پکانے کا سامان موجود ہے، زیادہ تر اشیائے خورونوش محفوظ تھیں، بانی ناشتے میں ایک کپ کافی، دلیہ اور چند کھجوریں استعمال کرتے ہیں، دوپہر کا کھانا انکے مطابق ہفتہ وار منصوبہ بندی کے تحت منتخب کیا جاتا ہے، دوپہر کے کھانے کے اخراجات بانی کا خاندان برداشت کرتا ہے، دو دن مرغی، دو دن گوشت، دو دن دال یا دو دن چاٹ یاسنیکس شامل ہوتے ہیں، بانی نے مزید بتایا کہ انہیں نجی کمپنی کا بوتل بند پانی دستیاب ہے، وہ مکمل کھانا نہیں لیتے بلکہ پھل، دودھ اور کھجوریں استعمال کرتے ہیں، کچن سے آگے 16ضرب 70فٹ کا کھلا صحن ہے جس کا فرش سیمنٹ کا تھا یہ حصہ کھلی فضا مگر چار دیواری میں گھرا ہوا ہے، بانی اس جگہ کو بھی چہل قدمی کیلئے استعمال کرتے ہیں، ساتھ ہی 7یکساں سائز کے سیلز دیکھے گئے جس پر 6 تک نمبر درج تھے، ہر سیل کا سائز 8ضرب 10فٹ تھا، بتایا گیا اس حصے تک رسائی محدود ہے اور صرف درخواست گزار اور اسکا مقرر کردہ معاون ہی داخل ہوسکتے ہیں، درخواست گزار سیل نمبر 2میں مقید ہے، انکو ملحقہ سیل میں غسل خانے اور ایکسر سائز بائیک رکھنے کی اجازت ہے، سیل نمبر 2 کا معائنہ کیا، سیل کے داخلی دروازے پر لوہے کی سلاخوں کا ڈھانچہ موجود تھا، لوہے کی سلاخوں کے ڈھانچے پر ہوا سے بچا کیلئے پلاسٹک شیٹ لگائی گئی تھی، سیل کے اندر 3ہائی وولٹیج بلب، ایک چھت والا پنکھا، ایک بلوور ہیٹر موجود ہے، 2میزیں، ایک وال کلاک، ایک چارپائی، ایک کرسی، ایک چھوٹا ریک موجود تھا، سیل کے اندر 32انچ کا ٹی وی دیوار پر نصب تھا تاہم چلانے پر وہ خراب پایا گیا، سیل میں کوئی الماری موجود نہیں، کپڑے 5 ہینگرز پر لٹکائے گئے تھے، کرسی غیر آرام دہ پائی گئی، سیل میں ایک سنگل بیڈ میٹریس، 4 تکیے اور 2 کمبل موجود تھے، بیڈ کے نیچے 5 جوڑی جوتے رکھے ہوئے تھے، فرش پر سرمئی رنگ کی قالین نما چٹائی موجود تھی، بانی پی ٹی آئی کا ذاتی سامان اور ٹوائلٹری آئٹمز بھی موجود تھے، جائے نماز، تسبیح موجود تھی، دو تولیے بھی تھے، تقریبا 100 کتابیں ایک میز پر رکھی تھیں، سیل کے اندر ساڑھے 4ضرب ساڑھے 4فٹ کا ٹوائلٹ تھا جس کو 4فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا تھا اور اسکی چھت نہیں تھی، ٹوائلٹ کے باہر گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت، واش بیسن اور آئینہ موجود تھا، سیل میں 2 روشندان چھت کے مخالف سمتوں میں موجود تھے تاہم سیل کے اندر ٹوائلٹ ہونے کے باوجود کوئی ایگزاسٹ سسٹم نصب نہیں تھا۔

درخواست گزار کے مطابق ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک ہے جس کا علاج پمز کے ڈاکٹرز نے کیا، اکتوبر 2025تک انکی دونوں آنکھوں کی بینائی بالکل نارمل تھی اسکے بعد بانی پی ٹی آئی کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی، متعدد بار اسوقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت سے آگاہ کیا، جیل حکام کی جانب سے کوئی موثر اقدام نہیں کیا گیا، بعد ازاں اچانک بانی کی دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہوگئی جس کے بعد پمزہسپتال کے ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنہ کیلئے بلایا گیا، درخواست گزار کے مطابق انکی آنکھ میں خون کا لوتھڑا بن گیا تھا جس نے شدید نقصان پہنچایا، علاج بشمول ایک انجیکشن کے باوجود انکی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!