جمعرات, فروری 12, 2026
پاکستانصدرِ مملکت کا انتہاپسندی اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر اقدامات...

صدرِ مملکت کا انتہاپسندی اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر اقدامات پر زور

صدر مملکت آصف علی زرداری نے متشدد انتہاء پسندی کی روک تھام کیلئے نفرت انگیز تقاریر و گمراہ کن معلومات کے موثر سدباب پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن تعلیم، مکالمے و سماجی ہم آہنگی سے ممکن، نوجوانوں کو بااختیار بنانا شدت پسندی کے سدباب کیلئے ناگزیر ہے۔

تشدد پر مبنی انتہاء پسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسداد تشدد کنونشن پر کاربند ہے، قومی انسداد انتہاپسندی پالیسی 2024ء فعال روک تھام کی حکمت عملی فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتہاء پسندی کیخلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے جبکہ اسلام اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ بھی برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں، پائیدار امن تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا موثر سدباب کیا جا سکے۔

صدر مملکت نے کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کو فروغ دے۔

انہوں نے کہا کہ انسداد انتہا پسندی کی کوششیں کسی مذہب یا ثقافت کو بدنام نہ کریں، نوجوانوں کو بااختیار بنانا شدت پسندی کے سدباب کیلئے ناگزیر ہے۔

صدر مملکت نے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کے موثر سدباب کی ضرورت زور دیتے ہوئے کہا کہ خاندان اور برادریاں انتہا پسند بیانئے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا جہاں نفرت پر امید غالب ہو اور تشدد پر امن اور تقسیم پر مکالمے کو ترجیح دی جائے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!