چھنگ دو (شِنہوا) چین کے جنوب مغربی صوبے سیچھوان کے شہر زی گونگ میں جاری 32 ویں بین الاقوامی ڈائناسور لالٹین فیسٹیول نے اس شہر کو 200 سے زائد لالٹینوں کے مجموعوں کے ساتھ ایک روشن سمندر میں بدل دیا ہے۔ ان لالٹینوں کی تیاری میں پریوں کی کہانیوں، بچوں کی ڈرائنگز اور خاص طور پر ان قبل از تاریخ ڈائناسورز سے ترغیب لی گئی ہے جن کی قدیم باقیات اسی شہر سے دریافت ہوئی تھیں۔
یہ میلہ مقامی حیاتیاتی ورثے کو چینی دیومالائی کہانیوں کے ساتھ ملا کر قدیم چینی ادب ’کلاسک آف ماؤنٹینز اینڈ سیز کے عظیم جانور‘ جیسے شاندار تخلیقات پیش کرتا ہے۔ ان میں تقریباً چار میٹر بلند، پروں والی رعب دار مخلوق نمایاں ہے جو شکل میں شیر سے مشابہ ہے۔ اس کی ایال حقیقی تنکوں سے بُنی گئی ہے اور اس میں نصب ایل ای ڈی روشنیاں قدرتی ریشوں کے اندر سے گرم سنہری چمک بکھیرتی ہیں۔
فن کا یہ روشن شاہکار صدیوں پرانی روایت میں پیوست ہے۔ تانگ اور سونگ خاندانوں (618-1279) کے دور میں، جب زی گونگ نمک کی پیداوار کا ایک خوشحال مرکز تھا، یہاں بہار کے تہوار پر لالٹین بنانے کا رواج پروان چڑھا، جو کہ خوشحالی اور خوشیوں کی امیدوں کی علامت ہے۔
وقت کے ساتھ یہ روایت سادہ لالٹینوں سے ایک نفیس فن کی شکل اختیار کر گئی، جو کاغذ کی کٹائی، مصوری، کشیدہ کاری اور مجسمہ سازی کو یکجا کرتی ہے۔ آج زی گونگ لالٹین شو کو چین کی قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
جدید دور میں لالٹین کی روایت کو اختراع اور ماحولیاتی شعور کے ذریعے دوبارہ زندہ کیا گیا ہے۔




