چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کردار، جرات و قابلیت کو لازوال عسکری اوصاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں یہ اوصاف پاکستانی جوان ثابت کر رہے ہیں، جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی ناگزیر ہے، انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ جیسی سرگرمیاں مشترکہ تیاری کو مضبوط بناتی ہیں۔
آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق کھاریاں میں منعقدہ 9واں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مقابلہ کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔
اختتامی تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور پیشہ وارانہ مہارت، جسمانی و ذہنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے پر شریک ٹیموں کو سراہا، فیلڈ مارشل نے مشق میں مقابلہ کی صلاحیت اور لگن کی بھی تعریف کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ٹیم سپرٹ مقابلہ 60 گھنٹوں پر مشتمل ایک سخت اور پیشہ ورانہ پیٹرولنگ مشق ہے، مشق کا مقصد شریک ٹیموں کے مابین جدید عسکری خیالات، حربی تجربات اور بہترین عملی مہارت سے استفادہ کرنا ہے۔
یہ مشق 5فروری سے پنجاب کے نیم پہاڑی علاقوں میں منعقد کی گئی جس نے شرکاء کو حقیقت سے قریب اور چیلنجنگ آپریشنل ماحول فراہم کیا، گزشتہ برسوں میں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ باوقار اور انتہائی مسابقتی عسکری مشق کے طور پر ابھری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مشق شریک ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ مہارت، باہمی سیکھنے اور عسکری تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، یہ فورم عسکری روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک اور باہمی اعتماد کو بھی فروغ دیتا ہے۔
رواں سال مقابلے میں 19ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی جن میں بحرین، بنگلہ دیش، بیلاروس، مصر، عراق، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، مالدیپ، مراکش، نیپال، قطر، سری لنکا، ترکیہ، امریکا اور ازبکستان شامل تھے، جبکہ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ نے بطور مبصر تقریب میں شرکت کی۔
پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کی 16مقامی ٹیموں کے علاوہ پاکستان ایئر فورس کے مبصرین بھی مشق میں شریک رہے۔
تقریب کے اختتام پر چیف آف آرمی سٹاف نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء میں انعامات تقسیم کئے۔ شریک ممالک کے بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی اتاشیوں نے مشق کے دوران اعلی پیشہ ورانہ معیار، بہترین تنظیم اور نظم و ضبط کو سراہا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز نے تمام شریک ٹیموں کی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جسمانی و ذہنی برداشت، صلاحیت اور بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی بین الاقوامی مشقیں اجتماعی تیاری اور جدید حربی تکنیک اپنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، کردار سازی، جرات و مقابلے کی صلاحیت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، یہ اقدار پاک فوج کی طرہ امتیاز ہیں، پاکستانی جوان خاص کر دہشت گردی میں اس کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔
بعد ازاں چیف آف آرمی سٹاف نے نیشنل کائونٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں مختلف تربیتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا، جن میں نئے قائم کردہ ٹیکٹیکل سمیولیٹر کا دورہ بھی شامل تھا۔
فیلڈ مارشل نے سمولیٹر تربیت کو روائتی تربیتی طریقہ کار میں معاون قرار دیتے ہوئے کہا کہ کردار، جرات اور قابلیت وہ اوصاف ہیں جو پاکستانی سپاہیوں کی پہچان ہیں، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں یہ اوصاف پاکستانی جوان ثابت کر رہے ہیں۔




